خطبات محمود (جلد 9) — Page 331
331 پر اس سے بھی زیادہ عرصہ تک شہر پر گولہ باری کی۔اس گولہ باری کے متعلق جو دوسری رپورٹیں ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ لگا تار جاری رہی اور فرانسیسی اس اثناء میں ٹھہرے نہیں۔لیکن فرانس کی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ گولہ باری مسلسل نہیں ہوئی۔بلکہ درمیان میں وقفہ ملتا تھا اور ہمارے مبلغین وہاں ہیں۔ان کے خطوط سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ گولہ باری کے درمیان وقفہ ملتا تھا۔گو وہ بہت ہی قلیل ہو تا تھا۔اس گولہ باری کا نتیجہ کیا نکلا؟ دمشق جو کہ بڑا بارونق شہر تھا اور جس میں ماسوا مقامات مقدسہ کے بڑی بڑی پرانی اور تاریخی عظیم الشان عمارتیں تھیں۔بالکل ویران ہو گیا۔وہ بازار جو بڑے بارونق اور مشہور تھے بالکل تباہ ہو گئے اور اب ان کو کوئی پہچانتا بھی نہیں۔ہر جگہ مکانوں کی اینٹیں اور لکڑیاں پڑی ہیں۔طلبہ اور مٹی کے ڈھیر جابجا نظر آتے ہیں۔حتی کہ وہ بازار بھی کہ جسے عیسائی مقدس سمجھتے تھے بالکل برباد ہو گیا اور اس میں اس شدید گولہ باری سے غار پڑ گئے ہیں۔اس تباہی کے ساتھ لوگوں کی جانوں پر بھی تباہی آئی۔جو نقصان اس گولہ باری سے ہوا۔اس کا صحیح اندازہ بھی نہیں ہو سکتا۔تاہم اس کے متعلق مختلف رپورٹیں ہیں۔بعض رپورٹیں یہ کہتی ہیں پچھتیس ہزار آدمی اس سے مارے گئے۔فرانسیسی رپورٹیں کہتی ہیں۔صرف دو ہزار آدمی مارے گئے۔بعض دوسری رپورٹوں سے ظاہر ہے کہ پانچ چھ ہزار مارے گئے۔یہ مختلف رپورٹیں ہیں۔ممکن ہے بعض میں افراط سے کام لیا گیا ہو اور بعض میں تفریط سے۔اس لئے یہ قیاس ہے کہ سات آٹھ ہزار جانوں کا ضرور نقصان ہوا ہے۔یہ تو ہے جانوں کا نقصان اور مال کے لحاظ سے تو کئی کروڑ کا نقصان ہوا۔جانوں اور مالوں کے نقصانات کے ساتھ ساتھ ایک اور نقصان بھی ہے۔جو ایک عرصہ تک لوگوں کو تکلیف میں ڈالے رکھے گا۔وہ نقصان ان زندہ لوگوں کا حال ہے جو حال سے بے حال ہو گئے۔جن کے گھر تباہ ہو گئے۔جن کے مال برباد ہو گئے۔جن کے لئے سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ رہی۔اور اس ہولناک تباہی کے بعد ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں ہزاروں اشخاص ایسے ہوں گے جو زندہ تو رہے مگر بالکل تباہ حال۔جو اس آفت سے بیچ تو رہے مگر بالکل بے خانماں برباد۔ان میں سے ہزاروں ایسے ہوں گے جو تن کے لئے کپڑا بھی ہم نہ پہنچا سکیں گے۔ان میں سینکڑوں ایسے ہوں گے۔جو ویران شدہ اشیاء کو درست بھی نہ کر سکیں گے ان میں ہزاروں ایسے ہوں گے جو مسمار شدہ گھر نہ بنا سکیں گے۔اور ایشیائیوں کی مظلومیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان خانماں