خطبات محمود (جلد 9) — Page 330
330 خاص کتاب پر بھی عمل کرتے ہیں۔جس میں اور ہی قسم کا احکام ہیں۔وروزیوں نے دیکھا کہ اسلام کے ساتھ نام کا تعلق رکھنے کی وجہ سے جب ہمیں دکھ دیا جاتا ہے۔تو کیوں نہ ہم اسلام کے ساتھ پورا تعلق پیدا کریں اور مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کر لیں۔اس پر دروزیوں نے یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ ہم آئندہ اپنی حالت سنواریں گے اور پورے طور پر اسلام کے حکموں کو مانیں گے۔عام مسلمانوں کو بلایا کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں ہماری مدد کرو اور دشمنوں سے جنگ جاری رکھنے کے لئے ہر قسم کی مدد دو۔دروزیوں کے سردار کی طرف سے اس آواز کا اٹھنا تھا۔کہ شام کے ملک میں چاروں طرف اک شور برپا ہو گیا اور لوگ ان کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔اس سے دمشق میں بھی شورش پیدا ہو گئی اور فرانسیسیوں کے برخلاف اس علاقے کے تمام باشندوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔جب ان میں سے بعض لوگوں نے دیکھا کہ وہ فرانسیسیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو انہوں نے ڈاکووں کی طرح جتھے بنائے اور جہاں ان کو موقع ملتا۔لوٹ مار کرنے لگے۔اس پر فرانسیسیوں نے متعدد ایسے گاؤں جلا دئیے۔جن کے متعلق انہیں یہ خیال گزرا کہ وہ ڈاکووں لو پناہ دیتے ہیں۔بعض دفعہ سزا الٹا اثر پیدا کرتی ہے اور بجائے نرمی پیدا کرنے کے اشتعال دلا دیتی ہے۔فرانسیسیوں نے جب کچھ گاؤں جلا دیئے تو ان گاؤں کے لوگوں کو اس پر جوش پیدا ہوا اور بجائے اس کے کہ وہ خائف ہو کر دروزیوں سے علیحدہ ہو جاتے۔دروزیوں کے ساتھ مل گئے اور دروز اور وہ دمشق میں داخل ہو گئے۔انہیں روکنے کے لئے پہلے پولیس سامنے آئی لیکن وہ مقابلہ نہ کر سکی اور اپنی جان بچا کر بھاگ گئی بلکہ ہتھیار تک پھینک گئی۔پھر فوج آئی لیکن فوج بھی مقابلہ نہ کر سکی۔دروزی بعض دفعہ شہر کے گلی کوچوں میں گھس کر فرانسیسیوں پر گولیاں برساتے۔جن کا جواب فرانسیسی نہ دے سکتے اور پھر جب فرانسیسی بھی ان گلی کوچوں میں گھنے کی کوشش کرتے تو ان پر مکانوں کی چھتوں سے اینٹ اور پتھر پڑتے۔ان حالات میں یہی کہنا چاہئے کہ فرانسیسیوں کی عقل ماری گئی اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھ گئی جو انہوں نے دمشق کے باشندوں سے کہا کہ لڑنے والوں کو گھروں اور کوچوں اور بازاروں سے نکال دو۔نہیں تو ہم گولہ باری کر دیں گے۔وہ دروزی جو پولیس سے نہ رک سکے اور مسلح فوج جن سے عہدہ بر آنہ ہو سکی۔انہیں شہر کے نہتے لوگ کس طرح نکال سکتے تھے۔جب شہر والے ان کو باہر نہ نکال سکے۔تو فرانسیسیوں نے ستاون گھنٹے بلکہ بعض خبروں کی بناء