خطبات محمود (جلد 9) — Page 260
260 سکتی۔جس طرح کہ خدا تعالیٰ کو واحد ماننے سے رہ سکتی ہے۔اسے پھر خدا کے ساتھ نہ وہ محبت ہو سکتی ہے جو ہونی چاہیے اور نہ ہی اس قدر خوف اس کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی وجہ سے برائیوں سے بچے اور نیکیوں کے کرنے کی حرص اس میں پیدا ہو۔پس نبیوں کا بڑا اور پہلا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کے متعلق دنیا کو یہ یقین کرا دیں کہ وہ جو کچھ ہے۔اکیلا ہی ہے اس کے ساتھ کوئی اور ساتھی نہیں۔یا اس جیسا کوئی اور خدا نہیں۔کیونکہ نبیوں کے دنیا میں آنے کی بڑی غرض یہی ہوتی ہے کہ وہ خدا کی وحدانیت کو دنیا میں پھیلا دیں اور دنیا جو شرک کی راہ پر جا رہی ہے اسے اس سے ہٹا کر توحید کی سڑک پر چلا دیں۔دوسرا کام خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق ہوتا ہے۔اور وہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں یہ ایمان پیدا کر دیں کہ خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔اگر عبادت کے لائق کوئی ہے تو وہی ایک ذات ہے جس نے دنیا کو پیدا کیا۔انسانوں کو بتایا اور پھر ان کی ضروریات کے سامان مہیا کئے۔پس حضرت آدم سے لے کر رسول کریم ﷺ تک جس قدر بھی انبیاء گزرے ہیں۔سب کی تعلیم کے اندر ایک یہی مسئلہ ملے گا۔جو نہایت اہم ہے کہ خدا پر یقین لاؤ اور اسے ایک سمجھو۔چونکہ خدا کو ایک وہی جانے گا جو اسے مانتا ہے۔اس لئے انبیاء خدا تعالی کو منواتے بھی ہیں اور کئی طرح کے دلائل پیش کر کے دنیا پر اسے ظاہر بھی کرتے ہیں اور جب دنیا اس بات پر ایمان لے آتی ہے کہ واقعی کوئی خدا ہے جو اس سب کا روبار کا مالک ہے تو پھر وہ اس کی وحدانیت منواتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں یہی نقطہ مرکزی ہے اور اسی پر سارے انبیاء کام کرتے ہیں اور اس کے اندر سب کچھ آجاتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا اہم مسئلہ ہے جس کے بغیر نہ ایمان پیدا ہو سکتا ہے اور نہ روحانیت پیدا ہو سکتی ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب میں جانے کی کوئی امید ہی نہیں پیدا ہو سکتی۔رسول کریم ان کو اس کے متعلق اس قدر جوش تھا کہ آپ کے مخالف بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپ اٹھتے بیٹھتے۔چلتے پھرتے ہر وقت خدا ہی خدا پکارتے تھے۔چنانچہ فرانس کا ایک مؤرخ لکھتا ہے اور خواہ کچھ کہو اور کوئی بھی الزام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر لگاؤ۔لیکن مجھے تو ایک بات ایسی اس میں نظر آتی ہے کہ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے۔تب سے کسی شخص میں دیکھی نہیں گئی۔اور وہ یہ ہے کہ جس وقت سے اس نے نبوت کا اعلان کیا ہے اس وقت سے لے کر موت کے وقت تک ایک ہی لفظ اس کی زبان پر رہا اور وہ اللہ کا لفظ تھا۔گویا اسے ایک دھن تھی۔اور جنون تھا کہ خدا کو منوانا ہے اور اسے دنیا میں ظاہر کرنا ہے۔