خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 259

259 32 حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کارنامے (فرموده ۱۸ ستمبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان کاموں میں سے ایک کام بتایا تھا جسے علماء نہیں کر رہے تھے اور اگر کوئی علماء میں سے کر بھی رہے تھے تو وہ وہی تھے جو قرب نبوت کی وجہ سے ایک نبی کی شعاعوں کو اپنے قلب میں جذب کر رہے تھے۔آج میں ایک دو سرا کام بتاتا ہوں کہ وہ بھی سینکڑوں سالوں سے بغیر کئے پڑا تھا۔علماء اسے دیکھتے تھے لیکن باوجود دیکھنے کے اسے کرتے نہیں تھے۔اس کے نتائج دیکھ رہے تھے لیکن یا تو وہ اس کی اصلاح کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے یا اگر اصلاح کی طرف توجہ کرتے تھے تو ایسی طرح کہ وہ اور بھی خراب ہو جاتا تھا اور یہ وہ کام ہے جس کے لئے قرآن کریم بتاتا ہے کہ انبیاء آئے اور وہ توحید کا مسئلہ ہے۔شروع سے لے کر آخر تک قرآن کریم کو پڑھ جاؤ۔اس میں کوئی بھی رکوع ایسا نہیں ملے گا جس میں اگر تفصیلا " نہیں تو اجمالاً اور اگر اجمالاً نہیں تو اشارۃ" شرک کا رد نہ کیا گیا ہو اور جتنے انبیاء بھی آئے وہ بھی سب دنیا کو یہی کہتے رہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔پس یہی وہ بہت بڑا کام ہے جس کے لئے انبیاء دنیا میں آتے رہے ہیں یا یوں کہو کہ نبیوں کے بڑے بڑے کاموں میں سے یہ ایک بڑا کام ہے جسے وہ دنیا میں آکر کرتے ہیں جہاں یہ ایک بڑا کام ہے۔وہاں یہ ایک نہایت ضروری کام بھی ہے۔کیونکہ اگر لوگ خدا تعالیٰ کے متعلق یہ یقین کرنے والے نہ ہوں کہ وہ واحد ہے اور اس کے کاموں میں اس کی طاقتوں میں اور اس کی صفات میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر دنیا میں ایمان پیدا بھی نہیں ہو سکتا اور دنیا اس طرح امن میں بھی نہیں رہ