خطبات محمود (جلد 9) — Page 255
255 دے۔تو کیا اس کے لئے آسان نہ ہوگا لیکن اس صورت میں جب کہ گنبد وغیرہ سے محفوظ کیا گیا ہے۔اس ارادہ کو وہ آسانی کے ساتھ پورا نہیں کر سکتے ایسے موقع پر اگر کوئی کہہ دے کہ یہ شرک ہے یا اس کا بنانا ناجائز ہے۔تو درست نہ ہوگا۔کیونکہ اس صورت میں نہ یہ ناجائز ہوگا اور نہ ہی شرک بلکہ ضروری ہوگا۔یہاں بھی ایک دفعہ جب خطرہ پیدا ہوا تو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار پر کچی چار دیواری کھینچ دی اور اوپر کیلیاں ڈال دیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ آرائش کے لئے کیا گیا تھا۔اس لئے یہ شرک بھی نہیں اور ناجائز بھی نہیں۔شرک تو تب ہو تا اگر ہم نے اس پر طرح طرح کی گلکاری کی ہوتی اور بیل بوٹے بنائے ہوتے۔اور اسے سجایا بنایا ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بغیر ضرورت کے بنایا ہوتا یہ تو صرف حفاظت کے لئے تھا۔نہ کہ شرک کے لئے۔پس آنحضرت کا مقبرہ حفاظت کی غرض سے بنایا گیا تھا۔ایسا ہی دوسرے مقبروں کے لئے بھی ہے کہ اگر ان کی حفاظت کے لئے ضرورت ہو تو قبے بنانے جائز ہیں لیکن میں کہتا ہوں اگر یہ بھی جائز نہ ہوتا تو بھی نجدیوں کو کوئی حق نہیں ہے کہ قبوں کو مسمار کریں جبکہ بہت سے لوگ موجود ہیں جو ان کا بنانا جائز سمجھتے ہیں۔ورنہ جس اصول کے ماتحت نجدی انہیں گرانا چاہتے ہیں۔اگر ایسے ہی اصول رکھنے والی قوم کا ہند پر غلبہ ہو جائے تو پھر تو تمام مندر گرائے جائیں۔تمام گردوارے مسمار کر دیئے جائیں۔تمام گرجے ڈھا دیے جائیں۔غرض ہر ایک مذہب کا معبد اور اس کے بزرگوں کے آثار کو توڑ دیا جائے۔صرف اس بناء پر کہ یہ ان کے نزدیک جائز نہیں۔ہم بھی بلا ضرورت قبے بنانا جائز نہیں سمجھتے۔ا اس جگہ بعض طبائع میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر احمدی ایسے موقع پر ہوتے تو کیا کرتے۔اس کا جواب یہ ہے ہم اس قسم کی باتوں میں اس طرح دخل نہ دیتے بلکہ وعظ و نصیحت سے سمجھاتے کہ ہر قبر پر قبہ جائز نہیں اور قبروں کی پرستش تو سخت گناہ ہے۔نجدیوں کو یہ تو حق ہے کہ وہ اپنے آدمیوں میں سے اگر کسی کو شرک کرتے دیکھیں تو اسے سزا دیں لیکن وہ یہ نہیں کر سکتے کہ غیروں کو سزا دیں یا ان کے ایسے مقامات کی ہتک کریں جو ان کے نزدیک واجب التعظیم ہیں۔پس اگر ہمارا تصرف ایسے ملکوں پر ہو جائے۔تو ہم ان کو سمجھاتے رہیں گے کہ شرک نہ کریں۔لیکن یہ نہ کریں گے کہ ان کو قتل کرنا شروع کر دیں یا ان کی مساجد و مقابر کو گراتے پھریں۔گو میں سمجھتا ہوں قبے بنانے ناجائز ہیں مگر ہر جگہ نہیں بلکہ ضرورت کے وقت جائز ہیں۔اگر