خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 256

256 ان سے مراد قبر کی حفاظت نہیں تو نا جائز ہیں۔یا ان کے لئے ناجائز ہیں جو ہر حال میں ناجائز سمجھتے ہیں مگر خواہ کچھ ہی ہو ان کا یہ کام نہیں کہ ان کو توڑیں۔اس معاملے میں ہم نجدیوں کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ قبے بلا ضرورت بنانے نا جائز ہیں اور شرک میں داخل ہیں لیکن اس معاملہ میں ہم ان کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے کہ ان کا توڑنا اور گرانا بھی درست ہے۔جو شخص جس قوم میں ہے جب تک وہ اس کے اندر ہے اور جب تک وہ اپنے آپ کو کسی اور قوم کی طرف منسوب کر کے بدنام نہیں کرتا تب تک وہ اسی کے عقائد اور خیالات کے مطابق پوچھا جائے گا اور اس کے بقیہ افراد اسے اس بات پر مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ان باتوں کو ترک کر دے جو اس کے اپنے عقائد کے لحاظ سے بھی درست نہیں لیکن کوئی اور اسے نہیں مجبور کر سکتا مثلاً کوئی شخص اگر احمدی ہو کر قبر پرستی کرے تو ہم اسے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ اس شرک کو چھوڑ دے اور اس وقت تک ہم اسے مجبور کر سکتے ہیں جب تک کہ وہ اسے چھوڑتا نہیں یا اپنے آپ کو احمدیت سے الگ کر کے کسی اور گروہ کے ساتھ مل نہیں جاتا لیکن اگر ایک حنفی ایسا کرے تو ہمارا کوئی حق نہیں ہم اسے اس سے زبردستی روکیں۔حنفی اگر قبے بناتے ہیں تو ان کے خیال کے مطابق وہ درست ہوں گے لیکن ظاہر یہی ہوتا ہے کہ قبوں کا بلا ضرورت بنانا شرک کی ایک قسم کو پیدا کرنا ہے اور نجدی اگر زیادہ سے زیادہ کچھ کر سکتے تھے تو یہ کر سکتے تھے کہ لوگوں کو بشرطیکہ وہاں شرک ہوتا ہو شرک سے روکتے نہ کہ نفسانیت کا شکار ہو کر ان کو توڑتے پھوڑتے اور اس توڑنے پھوڑنے میں ایسے اندھے ہو جاتے کہ مساجد اور روضہ نبوی ﷺ کو بھی نقصان پہنچانے سے خوف نہ کھاتے۔اس بات میں نہ کسی حدیث کا دخل ہے اور نہ سنت کا دخل ہے۔نہ قرآن شریف کا دخل ہے اور نہ کسی اور بات کا دخل ہے کہ قبے مت بناؤ اور قبروں کو پکا مت کرو اس میں صرف ضرورت کا دخل ہے اگر ضرورت ایسی ہے کہ ان کے بنائے بغیر قبر محفوظ نہیں رہ سکتی تو بہر حال ان کو بنانا پڑے گا۔بے شک پکی قبر بنانا منع ہے لیکن اگر کسی جگہ سیلاب آتا ہو یا کوئی اور ایسی بات پیدا ہوتی ہو جس سے لاش کی حفاظت نہ ہو سکتی ہو اور قبر کے گر جانے کا خطرہ لاحق ہو تو وہاں قبر کا پکا بنا لینا جائز ہے اور پھر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے کیوں پکا بنایا یا اس کے پکا بنانے سے شرک پیدا کیا۔کیونکہ اصل غرض تو وہاں لاش کی حفاظت ہے لیکن عام صورتوں میں قبر کا پکا بنانا منع ہے لیکن جس طرح پکی قبر بنانا منع ہے اسی طرح مردہ کو باہر پھینکنا یا اس کی ہتک ہونے دینا بھی منع ہے۔اس لئے ہم کہیں