خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 254

: 254 خاطر جن میں کہ خدا کا رسول پیدا ہوا۔چلا پھرا۔لڑائی کو بند کر دیا۔وہی دوسرے وقت ایسا نا معقول ہو گیا کہ اس سارے ادب و احترام کو بالائے طاق رکھ کر آپ ہی رسول کریم ﷺ کے روضہ پر گولہ باری کرنے لگ گیا۔میرے اس کہنے کا یہ مطلب نہیں کہ میں شریف کا مداح ہوں میں تو پچھلے دنوں شریف کے بعض نقائص اور اس کے طرز عمل کے بعض عیوب اپنے مضمون میں بیان کر چکا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس میں کوئی خوبی ہی نہیں۔جس طرح دوسرے انسانوں میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور نقائص بھی۔اسی طرح اس میں کئی خوبیاں بھی ہیں اور نقائص بھی اور میں نے نقائص کو نقائص کی جگہ بیان کیا اور خوبیوں کو خوبیوں کی جگہ پر۔بہر حال شریف کے لوگوں نے مکہ پر لڑائی نہ کر کے بہت بڑی شرافت سے کام لیا اور پھر ترکوں نے تو اور بھی زیادہ شرافت سے کام لیا کہ باوجود باغیوں پر حملہ آور ہونے کے جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ اتفاقاً ان کا ایک گولہ کعبہ کے پاس جا گرا ہے جس سے اس کے پردے کو آگ لگ گئی۔تو انہوں نے جھٹ حملہ چھوڑ دیا اور کہہ دیا ہم نہیں لڑتے۔مگر یہ نجدی عجیب ہیں کہ قصور بھی کرتے ہیں اور پھر مکرتے بھی ہیں۔پچھلے دنوں ان کا ایک وفد جو ہندوستان میں آیا۔ہمارے آدمیوں کے سامنے اس نے خود اقرار کیا کہ بے شک مسجدیں بھی گرائی گئی ہیں۔مزارات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔قبے بھی توڑے گئے ہیں لیکن جب وہ دوسرے لوگوں سے ملے جو نجدی کارروائیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے تو پھر انکار کر دیا کہ کوئی مسجد نہیں گرائی گئی۔کسی مزار کو نقصان نہیں پہنچایا گیا۔کوئی قبہ مسمار نہیں کیا گیا۔یہ سوال کہ قبے جائز ہیں یا نہیں اور بات ہے۔رسول کریم کے مقبرے کا سوال سیاسی ہے۔یہ سیدھا سادہ مقبرہ ہے۔جو اسلئے نہیں بنایا گیا کہ اس کی پرستش کی جائے بلکہ اس کی یہ غرض ہے کہ لوگوں کو شرک سے روکا جائے۔کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے بالکل قریب ہو کر اپنے جوش کو نہ روک سکیں اور قبر سے لپٹ جائیں۔یا مٹی سے ہاتھ مل کر منہ پر یا بدن پر پھیرنے لگیں یا بطور تبرک مٹی ہی اپنے ساتھ لے جائیں۔جیسا کہ عام بزرگوں کی قبروں کے متعلق ہوتا ہے۔اس وجہ سے رسول کریم ﷺ کی قبر کے اردگرد چار دیواری کھینچ دی گئی۔تاکہ لوگ اس قسم کے شرک میں مبتلا ہونے سے بچیں اور گنبدوں اور قبوں کا بنانا بھی حفاظتی ہے نہ کہ نمائش کے لئے اور پھر اس زمانہ میں جب کہ ہوائی جہاز نکل آئے ہیں۔ان کی اور بھی ضرورت ہے۔مثلا اگر ان کو نہ بنایا جائے تو عیسائی یا کوئی اور دشمن اسلام قوم اگر چاہے کہ وہ آنحضرت ا کے مزار کو ہوائی جہازوں اور توپ کے گولوں سے نعوذ باللہ اڑا۔