خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 230

غفلت میں پا کر ہلاک کر دے۔ 230 اگر کسی گھر یا کسی گاؤں کو آگ لگ جائے تو چند لوگ ہی کیا اسے بجھانے کے لئے دوڑتے ہیں۔ یا کیا اس آگ کا بجھانا صرف مردوں تک ہی محدود ہے؟ نہیں بلکہ سب زن و مرد ہی اس آگ کو بجھاتے ہیں اور سب کے سب اس کام کو کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی جو کہ اس وقت چیخ رہا ہوتا ہے۔ وہ بھی آگ بجھانے میں مصروف ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کی چھینیں بھی کئی آدمیوں کو بلا رہی ہوتی ہیں۔ مگر کیا یہ افسوسناک بات نہیں ہے کہ جس گھر کی حقیقت چند مرلہ زمین اور مالیت چند روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اسے اگر آگ لگ جائے تو اس کے بجھانے کے لئے تو کیا عورت اور کیا مرد کیا بچہ اور کیا بوڑھا سارے کے سارے لگ جاتے ہیں لیکن اس دنیا میں جو آگ لگی ہوئی ہے۔ اس کے لئے وہ کوشش نہیں کی جاتی جو ایک معمولی سے گھر کے لئے کی جاتی ہے۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ دو اور اپنی طرف نگاہ کرو اور اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو۔ ہمارے ذے یہ فرض ہے کہ ہم ہر وقت تبلیغ میں لگے رہیں۔ تو بہت سے لوگ ہیں جو یہ کافی سمجھتے ہیں کہ ان کو ہم ایک مبلغ بھیج دیں اور وہ خود کچھ نہ کریں۔ میں نے کبھی کسی گھر کے لوگوں کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ادھر تو ان کے گھر کو آگ لگی ہوئی ہو اور ادھر وہ چارپائیوں پر باہر بیٹھے ہوئے ہوں اور افسوس کرتے ہوں کہ محلے والے نہ آئے کہ اس آگ کو بجھایا جاتا۔ بیشک وہ افسوس بھی کرتے ہیں لیکن تب جب وہ خود اس کو بجھانے کی پوری کوشش کر رہے ہوں۔ اور اس کام میں ہمہ تن مصروف ہوں مگر ایسا تو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ خود تو ہاتھ پاؤں نہ ہلائیں اور سامنے گھر کو آگ لگ رہی ہو اور وہ جل کر خاک سیاہ ہو رہا ہو اور وہ دوسروں پر گلہ کریں کہ محلے والے ہماری مدد کو نہ آئے۔ محلے والے مدد کو کیا آتے ۔ جب وہ خود ہی کچھ نہیں کر رہے۔ تو کسی کو کیا احساس ہو سکتا ہے کہ فی الواقع تمہیں اس سے درد پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے لوگ اگر خود کچھ کریں تو ہی لوگوں کو پتہ لگ سکتا ہے کہ ان کو اس آگ لگنے کا درد ہے اور وہ مدد کو آسکتے ہیں لیکن جب یہ خود ہی محسوس نہیں کرتے۔ جب خود ہی انہیں اس آگ کا درد نہیں پیدا ہوتا۔ جب خود ہی اس آگ کو دیکھ کر ہاتھ پاؤں نہیں ہلاتے تو پھر دوسرا اگر مدد کو نہیں پہنچتا تو اس کا گلہ کیا۔ ایسے لوگوں کی مثال تو ان ستوں کی طرح ہے جن کا حال کسی دانا شخص نے لطیفہ کے طور پر بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں ایک شخص سپاہی تھا سرکاری کام کے لئے کہیں سفر پر جا رہا تھا۔ سڑک کے پاس سے