خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 229

229 تبلیغ سے متاثر ہو کر سچائی کو قبول کرتا ہے بیشک وہ ہدایت تو پاتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ آگ بھی جو ہمارے گھر کے پاس تھی اور بھی دور چلی گئی۔تبلیغ ہی سے خدا کا جلال دنیا میں ظاہر کیا جا سکتا ہے اور تبلیغ ہی سے شیطان کا سر بھی کچلا جا سکتا ہے۔لیکن افسوس کہ ہماری جماعت کے افراد اس بارے میں غافل ہو رہے ہیں اور اس کی طرف اتنی توجہ نہیں کرتے جتنی کہ اس طرف کرنی چاہئے۔اگر دس پندرہ مخصوں نے اتنی بڑی جماعت میں سے اس طرف خیال کر لیا۔تو کیا کر لیا۔اتنی بڑی ضرورت کے لئے دس پندرہ ہوئے ہی کیا؟ میں جب یہ کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے دس پندرہ آدمی ہی صرف اس کام کی اہمیت سمجھتے اور اسے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔تو یہ مبالغہ نہیں ہے بلکہ حقیقت الا مر ہی یہ ہے کہ ہماری جماعت کے افراد اس طرف سے غافل ہیں اور دس پندرہ سے زیادہ نہیں ہیں جو تبلیغ میں مصروف ہیں۔حالانکہ تبلیغ ایک فرض ہے جو ہر ایک کے ذمہ ہے اور ہماری جماعت تو اور بھی اس ذمہ داری کے نیچے ہے۔ایک فرض قوم پر فرض ہوتے ہیں۔وہ ایک آدمی کے کرنے سے پورے ہو جاتے ہیں۔ان فرضوں میں سے اگر کسی ایک فرض کو کوئی ایک آدمی بجا لایا تو سمجھا جائے گا کہ اس قوم نے اس فرض کو پورا کر دیا۔لیکن جو فرض افراد پر ہوتے ہیں۔وہ افراد کے ہی کرنے سے پورے ہوتے ہیں اور کوئی شخص دوسرے لوگوں کے کرنے سے ان سے نجات نہیں پا سکتا۔مثلاً نماز ہے اب یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک کی جگہ دوسرا پڑھ لے تو وہ بھی اس سے سبکدوش ہو گیا۔ایسا ہی کوئی شخص یہ کہہ کر نجات نہیں پا سکتا کہ زید اور بکر تبلیغ کر رہے ہیں یا ہمسائے تبلیغ کر رہے ہیں۔یا بیوی تبلیغ کر رہی ہے۔یا بچے تبلیغ کر رہے ہیں۔کیونکہ یہ تو ہر ایک پر یکساں فرض ہے جس طرح زید پر اس فرض کا بوجھ ہے اسی طرح بکر پر بھی فرض ہے جس طرح بیوی اس کے کئے بغیر اس سے بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔اسی طرح خاوند بھی جب تک اسے نہ کرے اس سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔غرض یہ سب پر فرض ہے۔خواہ وہ کوئی بھی ہو پس اس صورت میں کہ جب یہ ہر ایک پر فرض ہے اور جب کہ اس زمانہ میں اس کی ازحد ضرورت ہے۔اگر دس پندرہ فیصد یا اس سے بھی کم لوگ تبلیغ میں لگے ہوئے ہیں۔اور باقی اس طرف توجہ نہیں کرتے۔تو ان میں سے ہر ایک یہ سمجھ لے کہ وہ ایک گناہ میں مبتلا ہے اور ایک حکم صریح کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور شیطان کے دروازے کھول رہا ہے کہ وہ ہمیں