خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 231

231 جو گزرا تو اسے کسی نے آواز دی میاں راہ گزر ذرا ادھر آنا۔اس پر وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ کہاں سے آواز آئی تو اسے ایک جگہ ایک آدمی لیٹا ہوا نظر آیا۔وہ سپاہی اس آواز پر اس کے پاس پہنچا۔تو اس آواز دینے والے نے کہا کہ میاں میری چھاتی پر پیر پڑا ہے۔ذرا اٹھا کر اسے میرے منہ میں ڈال دینا۔قدرتاً ایسے کاموں میں انسان کو غصہ آجاتا ہے۔سپاہی کو بھی اس پر غصہ آگیا اور وہ اس پر ناراض ہونے لگا۔پاس ہی ایک اور شخص لیٹا ہوا تھا وہ بول اٹھا کہ میاں تم ناراض کیوں ہو رہے ہو۔تم نے اس کی سستی کا ابھی دیکھا ہی کیا ہے یہ تو بڑا ہی بے ہمت شخص ہے۔ساری رات کتا میرا منہ چاہتا رہا لیکن اس نے ”ہشت" تک نہ کہا۔اور اسے ہٹایا تک نہیں۔یہ سن کر وہ سپاہی ان کو چھوڑ کر وہاں سے چل دیا۔بظاہر یہ لطیفہ ہے لیکن یہ لطیفہ نہیں یہ نقطہ ہے۔اس سے سبق حاصل کرنا چاہئے اس لطیفہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ ایسے ست ہوتے ہیں کہ کھانا ان کے پاس دھرا ہے لیکن وہ اس انتظار میں ہیں کہ کوئی آئے اور لقمے ان کے منہ میں ڈالے۔ایسے لوگ دوسروں کو بتاتے ہیں کہ تم آکر بیر ہمارے منہ میں ڈال دو۔اور خود یہ نہیں کر سکتے کہ بیر کو اپنی چھاتی پر سے اٹھا کر منہ میں ڈال لیں۔کیا یہی مثال ان لوگوں پر چسپاں نہیں ہوتی جو تبلیغ میں مشغول نہیں کہ ان کی بغل میں تو دشمن ہے اور وہ یہاں چٹھی لکھ دیتے ہیں کہ ہمیں مبلغ بھیج دو اور سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی آنے جانے والا یہ کام کر لے گا۔حالانکہ یہ کام ان کا اپنا ہے ان کو چاہئے کہ وہ دشمن کے لئے اپنے آپ کو خود تیار کریں۔ایسے لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ دور سے جانے والا تو ایک ہی دفعہ بیر ان کے منہ میں ڈال سکتا ہے اور ایک ہی دفعہ ہشت کر کے کتے کو پرے ہٹا سکتا ہے۔لیکن ہمیشہ ایسا نہیں کر سکتا اور اگر وہ اس بات پر رہیں گے کہ کوئی اور ہی آئے اور بیر ہمارے منہ میں ڈالے اور ہشت کرکے کتے کو پرے ہٹا دے تو اس کے ایک دفعہ ایسا کرنے کے بعد کون ہو گا جو ان کے لئے ہمیشہ ہمیش کام کرے گا۔اسے لطیفہ نہ جانو پس لطیفہ نہیں یہ نکتہ ہے اور نکتہ بھی نکتہ معرفت جو کسی دانا اور عقل مند انسان نے بیان کیا ہے اور لوگوں کی عقل پر سے پردہ اٹھانے کے لئے یہ اچھی تدبیر اختیار کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ جب قادیان کی طرف سے کوئی آدمی ان کے پاس نہیں پہنچتا بڑے پریشان ہو کر کہتے ہیں۔افسوس قادیان والوں پر کہ ہماری خبر بھی نہیں لیتے مگر افسوس ان پر ہے کہ بیروں کا تھال تو ان کے سامنے پڑا ہے لیکن خود اٹھا کر کھا نہیں سکتے اور افسوس کرتے ہیں کہ قادیان کی طرف سے کوئی نہیں آیا جو ان کو ہمارے منہ میں ڈالتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض