خطبات محمود (جلد 9) — Page 208
208 ر لئے اسے قبول کرنے میں لوگوں کو اپنی خواہشات کی قربانی کرنی پڑتی ہے اور اس وجہ سے انکار کر دیتے ہیں پس لوگ اس نبی کا تو انکار نہیں کرتے جو پہلے گزر چکا ہے۔کیونکہ اس کے ماننے کا اقرار کرنے میں ان کا کچھ حرج نہیں ہوتا۔لیکن اپنے زمانہ کے نبی کا ماننا ان کے لئے موت ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو صداقت مسیح موعود کا قائل کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔جو اس زمانہ میں ہمارے سپرد ہوا ہے۔اور یہ سوائے خدا کے فضل کے ہو نہیں سکتا۔رسول کریم ﷺ کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ بھی محض خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوئی ورنہ مخالفین آپ کے مقابلہ میں بہت قوت اور طاقت رکھتے تھے۔ابو جہل جو آپ کا بدترین شمن تھا بہت طاقتور تھا۔مگر تباہ و برباد ہو گیا۔اسی طرح رسول کریم ال کے بعد صحابہ کرام کو جو کامیابی ہوئی وہ بھی خدا کے فضل سے ہی ہوئی۔ابو بکر، عمر، عثمان اور علی تو کامیاب ہو گئے مگر عقبہ شیبہ تباہ و برباد ہو گئے۔اب ہمیں بھی خدا کے فضل سے ہی کامیابی حاصل ہو گی مگر خدا کے فضل کو حاصل کرنے کیلئے بھی کوشش کی ضرورت ہے۔دیکھو ماں احسان کے طور پر بچے کو دودھ پلاتی ہے مگر جب تک بچہ روتا نہیں اس کی چھاتیوں میں بھی دودھ نہیں اترتا۔اسی طرح جب تک ہماری طرف سے کافی جدوجہد نہ ہو گی اس وقت تک خدا تعالیٰ کا فضل بھی ہم پر نازل نہ ہو گا۔اور ہمیں کامیابی حاصل نہ ہوگی۔ہمارا کام کیا ہے۔یہ کہ دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہم اس تعلیم کو پہنچا دیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی ہے اور جس کی اس زمانہ کا تمدن اور عام رو مخالفت کر رہی ہے۔اس تعلیم کے پہنچانے میں ہماری مخالفتیں ہوئیں اور ہو رہی ہیں ہمیں تکلیفیں دی گئیں اور دی جا رہی ہیں۔ہم سے تعلقات منقطع کئے گئے اور کئے جارہے ہیں۔ہم سے رشتہ داریاں چھوڑی گئیں اور چھوڑی جارہی ہیں۔الغرض ہر قسم کا نقصان ہمیں پہنچایا گیا اور پہنچایا جا رہا ہے۔اور اگر خدا کے وعدے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ نہ ہوتے۔جن کی صداقت میں ہمیں ذرا بھی شک و شبہ نہیں اور اس کا فضل ہمارے شامل حال نہ ہو تا تو ہماری کیا ہستی تھی کہ ان مخالفتوں کے مقابلہ میں ٹھر سکتے۔پھر پہلے انبیاء کے حالات بھی ہمارے دلوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔کیونکہ وہاں نظر آتا ہے کہ خدا تعالٰی کس طرح وعدے کرتا اور پھر کس طرح ان کو پورا کر دکھاتا ہے۔اور پھر کن حالات میں سے وہ کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔پس ہم کو اس کام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔بلکہ ہمارا قدم آگے ہی آگے پڑنا چاہیے۔ہمیں چاہیے کہ ہم گزشتہ نبیوں کے حالات پر نظر ڈالیں۔اس وقت کام وہی کام ہے جو پہلے نبیوں کے وقت میں ہوا یا آئندہ جو نبی آئے گا اس