خطبات محمود (جلد 9) — Page 207
207 حد تک جدوجہد کی ہے۔اگر نہیں کی تو ہم کو اس فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے اور ہر ممکن کوشش کے ذریعہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کام کو جاری رکھنا چاہیے۔دنیا کسی پرانے نبی کو تو آسانی سے مان سکتی ہے لیکن کسی نئے نبی کا ماننا اسے دو بھر ہوتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ پرانا نبی جو گزر چکا اس نے بذات خود تو اپنی تعلیم کا مقصد آکے سمجھانا نہیں۔لوگ جو چاہیں اس کا مطلب سمجھ لیں۔مثلاً سود کو ہی اگر لیں تو قرآن کریم تو کہتا ہے کہ سود مت لو یہ قطعی حرام ہے لیکن مسلمان اگر یہ کہنا شروع کر دیں جیسا کہ کہنا شروع کر بھی دیا ہے کہ سود کے یہ معنی نہیں بلکہ کچھ اور ہیں اور وہ معنی جو وہ لیں وہ ان کے مطلب کے ہوں تو اب قرآن کریم نے تو بولنا نہیں کہ اس کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ ہیں اور نہ ہی دیگر احکامات کے متعلق اگر لوگ ان کے کچھ کے کچھ مطلب بنا لیں وہ کچھ کہے گا۔اس لئے قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کے احکام کو نہ مانتے ہوئے بھی لوگ ان کے ماننے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔ایسی باتوں سے اگر کوئی روک سکتا ہے تو وہی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی تعلیم کو صحیح معنوں میں پیش کرنے کے لئے خدا کی طرف سے مامور ہو۔ایسا ہی اگر کوئی کہہ دے کہ اب نماز کی ضرورت نہیں یہ اس زمانے کے لوگوں کے لئے تھی جن پر جہالت کا اثر تھا اور اب جب کہ جہالت دور ہو چکی ہے اس کی ضرورت نہیں۔اب اگر رسول کریم بھی اس وقت ہوتے اور اس زمانہ میں تشریف لاتے تو آپ بھی یہی فرماتے تو اس صورت میں بھی نہ قرآن کریم بولے گا اور نہ ہی رسول کریم ا اگر فرمائیں گے کہ ان احکام کا یہ مطلب نہیں جو تم سمجھے بیٹھے ہو۔اور جب کسی نبی نے آکر اپنی تعلیم کے متعلق کچھ کہنا نہیں اور غلط کاریوں سے ہاتھ پکڑ کے روکنا نہیں تو پھر اس کے ماننے کا دعوی کرنے میں کیا حرج ہو ہے۔جو دل میں آیا کر لیا۔اور جیسا خیال گزرا معنی بنائے۔اب اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غلامی کا دعوی کرتے ہوئے آپ کی تعلیم کا مفہوم کچھ کا کچھ ٹھرا لیا جائے تو بھی مسلمانوں کے نزدیک کچھ حرج کی بات نہیں۔قوم کی قوم بھی بنی رہتی ہے۔اور اپنا مطلب بھی پورا ہو جاتا ہے۔اندریں حالات پرانے نبیوں کا ماننا ان کے لئے مشکل نہیں۔لیکن نئے نبی کا ماننا ایسے لوگوں کے لئے موت ہے کیونکہ اس نے تو ایسے موقع پر خاموش نہیں رہنا جب اس کی تعلیم یا اس کے مطاع کی تعلیم کو بگاڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بعد اس کی تیار کردہ جماعت ایسے موقع پر خاموش رہ سکتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی میں نبوت کا دعوی کرنے والا نبی تو نماز، زکوۃ روزہ وغیرہ کے متعلق وہی احکامات بتلائے گا کہ جو اصل ہیں۔اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔اس سکتا۔