خطبات محمود (جلد 9) — Page 209
209 وقت ہو گا۔دنیا کی مخالفت وہی مخالفت ہے جو پہلے نبیوں کے وقت میں ہوئی۔پھر جب ان انبیاء کی جماعتیں کامیاب ہوئیں تو ہم بھی ضرور کامیاب ہوں گے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ہماری سستی اور کمزوری کی وجہ سے اس کامیابی میں تاخیر ہو جائے۔اب یہ ہمارا کام ہے کہ تاخیر نہ ہونے دیں۔مسلمان ہمیشہ اس خیال سے بہت نقصان اٹھاتے رہے ہیں کہ جو بات مقدر ہو گی وہ آپ ہی آپ ہو جاتی ہے۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کی تقدیر تاخیر ہماری مستیوں اور کمزوریوں کے سبب ہوتی ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے لیکن تاخیر ہماری طرف سے ہوتی ہے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ تقدیر تاخیر کو بدل ڈالیں اور وہ اسی طرح ہو سکتی ہے کہ ہم کام میں لگ جائیں۔اور اگر اخلاق فاضلہ پیدا کر کے ہمارا ہر فرد تبلیغ میں لگ جائے تو بہت جلد ہمیں بے نظیر کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔اور یہ کام کرنے والے اس دنیا میں بھی اور اگلے جہان میں بھی خدا کے فضل کے وارث اور اس کی نعمتوں کے پانے والے بن سکتے ہیں۔چندہ خاص کی تحریک کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ ابھی اور قربانیاں ہیں جن کا میں مطالبہ کرنے والا ہوں۔ان کے متعلق میں اس انتظار میں تھا کہ جماعت چندہ سے سبکدوش ہو لے تو میں انہیں پیش کروں۔اب خدا کے فضل سے چونکہ جماعت اسے پورا کر چکی ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس وقت اتنا ذکر دوں کہ جماعت ان کے لئے تیار ہو جائے یہ قربانیاں جو میں چندہ خاص کے بعد چاہتا ہوں وقتوں اور آراموں کی قربانیاں ہوں گی۔پس جماعت کو چاہیے کہ وہ پہلے سے تیار رہے تا وقت پر کوئی شخص کمزوری محسوس نہ کرے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالٰی ہم سب کو اس کام کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اس فرض کو اچھی طرح ادا کر سکیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمارے سپرد کیا گیا اور خدا کرے کہ ہم لوگوں کو کھینچ کر مسیح موعود کی طرف لے آئیں۔خدا ہم سب کو توفیق بخشے۔(الفضل ۲۵ جولائی / ۱۹۲۵ء) ا سیرت ابن ہشام جلد اول ص ۲۹۳ ہیرو اینڈ ہیرو در شپ مصنفہ کارلائل