خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 4

4 ہمیں دیا ہے۔شائد اس کے علم میں یہ سال ہماری کامیابیوں کے لئے دوسرے سالوں سے بہت بڑھ کر ہو اور شائد یہ سال پچھلے سال سے اپنی عظمت اور نتائج کے لحاظ سے بہت بڑی شان رکھتا ہو اور ایسے لوگ سلسلہ میں داخل ہوں اور اس طرح داخل ہوں کہ پہلے سالوں میں اس کی نظیر نہ پائی جاتی ہو۔مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ اسی سال یوں کرو۔یہ میرا استدلال ہے کہ اس سال ہمیں اس کام کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہیے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے ارشاد جب دوبارہ نازل ہوتے ہیں تو ان سے مقصد یہی ہوتا ہے کہ یہ امور اس وقت کے لحاظ سے زیادہ قابل توجہ ہیں۔اس لئے میں اس سال کے لئے جماعت کا نصب العین تبلیغ تجویز کرتا ہوں اور اپنے تمام ساتھیوں اور دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں تا خدا کے فضل کے ماتحت پوری سعی اور کوشش سے اس کے دین کو دنیا کے کناروں تک پہنچایا جائے اور مجھے جو خدا نے بار بار تبلیغ کی ضرورت کی طرف توجہ دلائی ہے تو اس میں حکمت ہے۔ایک شخص ایک دفعہ بات کو نہیں سمجھتا۔تو دوسری دفعہ تیسری دفعہ سن کر سمجھ جاتا ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ ایک شخص جو سو دفعہ سن کر نہیں سمجھ سکا وہ ایک سو ایک دفعہ سن کر نہیں سمجھے گا یا ایک ہزار دفعہ سن کو وہ ایمان نہیں لایا تو ایک ہزار ایک دفعہ سنانے سے وہ نہیں مانے گا۔اس لئے خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم تھکو نہیں۔کمزوری اور سستی اپنی طرف سے تم نہ دکھلاؤ۔تم نہیں جانتے کہ کون دور افتادہ اور کون در اصل ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہے۔اس لئے وہ چاہتا ہے کہ تم کوشش کرو اور وقت پر ہدایت ہم دیں گے۔پس ہر ایک کو مبلغ بن کر تبلیغ کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔خواہ وہ عالم ہو یا غیر پڑھا ہو۔جہاں تک بھی اس کو علم ہو اور اسے واقفیت حاصل کرنی چاہیے وہ خدا کی تعلیم اور اس کی ہدایات کو دنیا تک پہنچائے تا خدا کا جلال ظاہر ہو اور لوگ اخلاص سے اس کی بادشاہت کو تسلیم کریں۔دنیا دار اپنی نادانی سے دوسرے مشاغل میں محو اور مشغول ہیں اور وہ اپنی نفسانی ہوا و ہوس میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو اپنی دینوی ترقی اور جاہ و جلال کی فکر ہے۔خدا کرے ہمارے دل میں کوئی فکر ہو تو وہ محض اس کے دین کی اور اس کے آپ کی فکر ہو اور ہمیں توفیق ملے کہ ہم بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ اس کے دین کے لئے کوشش کر سکیں اور ہمیں بار بار اس خدمت کا فخر حاصل ہو۔اللھم یا رب۔آمین۔الفضل ۸ جنوری ۱۹۲۵ء)