خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 3

3 نہ آئے ہوں وہ شاہی خلعت کی کیا قدر کرے گا۔وہ کیا جان سکتا ہے کہ یہ خلعت کس قیمت کی ہے۔اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم کہیں اے خدا ہمیں اس بات سے محفوظ رکھ کہ ہم اپنی جہالت اور غلطی کی وجہ سے تیرے انعامات کو سمجھ نہ سکیں اور سیدھی راہ سے بھٹک جائیں۔تو ہماری ایسی دست گیری فرما کہ ہم تیرے ہو جائیں اور تو ہمارا۔یہ نیا سال شروع ہوتا ہے اور ہر نیا سال اپنی نئی ذمہ داریاں اپنے ہمراہ لاتا ہے۔پچھلے سال جو کام ہوئے وہ ہماری طاقتوں اور ہمتوں سے بالا تھے اور بہت سے کام ایسے تھے جن میں ہمیں بہت بڑی کامیابی ہوئی۔مگر وہ ہماری کسی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ محض خدا تعالٰی کا فضل اور اس کا احسان تھا اور بہت سے ایسے کام ہیں جن میں ہماری غفلتوں اور کو تاہیوں نے روکیں ڈال دی ہیں۔ہماری کوشش اور ہماری جدوجہد اور ہمارا ہر ایک قدم جو ہم اس کی راہ میں بڑھاتے ہیں اور ہمارے تمام ارادے جو اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے ہوتے ہیں۔وہ ایک پیج کی طرح ہوتے ہیں جس کے نتائج خدا کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ آئندہ سال کیسا سال ہو گا اور کیا کیا خدا کے فضل اور اس کے احسان ہمراہ لائے گا۔اس لئے میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس سال کو ہمارے لئے مبارک کرے اور وہ خود ہمارا ناصر و مددگار ہو۔ہمارے قدموں کو گمراہی ، جھوٹ اور لغزشوں سے محفوظ رکھے اور اس کی نصرت اور تائید ہمارے شامل حال ہو تا ہمارے دل اور ہماری زبانیں اور ہمارے جوارح اور ہماری گفتگو اور ہمارے تمام اعمال بھی اسی کے لئے ہوں۔ہمارے ارادے اس کے ارادوں کے ماتحت ہوں۔ہمیں سامان بھی میسر آئیں اور ہماری کوششوں میں برکت ہو اور نتائج کے لحاظ سے ماضی سے ہمارا استقبال اعلیٰ اور مکمل ہو جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں۔ہر سال اپنے ساتھ نئے کام لاتا ہے اور انسان کو ہر سال ایک نیا نصب العین اپنے لئے مقرر کرنا پڑتا ہے۔اس لئے ہمیں بھی اس نئے سال کے لئے ایک نیا نصب العین مقرر کرنا چاہیے۔گذشتہ سالوں میں جہاں تک ہم نے اپنے لئے نصب العین مقرر کئے اور جہاں تک ان میں ہمیں کامیابی ہوئی خدا تعالی بہتر جانتا ہے۔پچھلے سالوں میں تو میرا یہ طریقہ رہا ہے کہ میں خود کوئی نہ کوئی آئندہ سال کے لئے نصب العین مقرر کرتا تھا۔مگر آج میں وہ بات کہتا ہوں جو مجھے کسی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارا رب یہ چاہتا ہے کہ ہم بار بار اور دور دور ملکوں میں خدا تعالیٰ کے بچے اور سلامتی کے دین کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دیں۔ہمارے رب نے یہ ارشاد کیا ہے۔گو وہ ہمیشہ کے لئے ہے مگر اس کی حکمت یہی چاہتی ہے کہ اس کو اس سال کے لئے ہم اپنا نصب العین مقرر کریں کہ ہم اس کی کچی اور پاک تعلیم کو بار بار دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچا دیں اور کسی انسان سے نہ ڈریں۔یہی حکم اس پیدا کرنے والے نے