خطبات محمود (جلد 9) — Page 5
5 2 مذہب کی اپنے عمل سے عزت کرو (فرموده ۹ جنوری ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے بارہا اپنے دوستوں کو اس امر کی طرف متوجہ کیا ہے کہ مذہب کی غرض اور مذہب کا مقصد ان فوائد اور ان مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔جن فوائد اور جن مقاصد کے لئے خدا تعالیٰ نے مذہب کو جاری کیا ہے اس کے سوائے مذہب کی اور کوئی غرض نہیں۔اگر کسی مذہب کو اختیار کر کے وہ فوائد اور مقاصد حاصل نہ ہوں اور وہ برکتیں جو مذہب کے ذریعے انسان کو ملتی ہیں اگر نہ ملیں تو پھر مذہب کا آنا نہ آنا دونوں باتیں برابر ہیں۔میرے نزدیک ایسے شخص کی جو مذہب کو قبول کر کے مذہب کے فوائد سے محروم رہتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے جس کو میں نے بارہا بیان کیا ہے کہ ایک شخص جو سخت پیاسا ہے اور پانی بھی اس کے پاس رکھا ہے لیکن وہ اس پانی کو پتا نہیں۔وہ شخص جو پیاسا ہے اور پانی پاس ہوتے ہوئے پیتا نہیں اور وہ شخص جو پیاسا تو ہے لیکن اس کے پاس پانی ہی نہیں کہ وہ پی کر اپنی پیاس بجھا سکے۔تکلیف اٹھانے میں دونوں برابر ہیں۔جس پیاسے کے پاس پانی نہیں وہ تو یہ عذر بھی کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ میں کہاں سے پانی لاتا اور پیتا لیکن جس پیاسے کے پاس پانی ہے اور وہ نہیں پیتا اور تکلیف اٹھاتا ہے وہ کوئی عذر نہیں کر سکتا۔اس لئے ایسا شخص بہت زیادہ قابل افسوس اور قابل ملامت ہے لیکن پیاس کی تکلیف اس کو بھی ویسی ہی ہو گی۔جیسی کہ اس شخص کو جس کے پاس پانی نہیں۔ایک نے پانی میسر نہ آنے سے پانی نہ پیا اور تکلیف اٹھائی اور ایک نے پانی کی موجودگی میں پانی نہ پیا اور تکلیف اٹھائی۔گو وہ منہ سے کہہ رہا ہے کہ میرے پاس پانی ہے۔میرے پاس پانی ہے۔اس کی حالت دوسرے سے بہت زیادہ قابل رحم ہے اور لوگ اسی کو قصور وار ٹھہرائیں گے اور ہر شخص اس کو لعن طعن کرے گا کہ تیرے پاس پانی موجود تھا اور تم نے اس سے نفع حاصل