خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 78

78 حکومت کابل پر کوئی اثر نہ کرے۔ہماری طرف سے وہ اپیل جو لیگ آف نیشنز یعنی مجلس بین الا قوام میں کی گئی اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ جب وہ کاغذات مجلس کے میز پر رکھے گئے۔تو انگریزوں کے علاوہ دوسری حکومتوں کے نمائندوں نے بھی ان کاغذات کو پڑھا۔اور یہ اس کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اس معاملہ میں مناسب کارروائی کرنے کے لئے اپنا قدم اٹھایا ہے۔مگر یہ کام ایک دن کا نہیں کہ جھٹ پٹ اس کے نتائج نکل آئیں۔اور نہ یہ صرف تاروں کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔اسی لئے ہم نے تاروں پر ہی اکتفا نہیں کیا۔بلکہ وفد کے طور پر بھی ہمارے آدمی ان حکومتوں کے ذمہ دار لوگوں سے ملے اور ان سے ملاقاتیں کی ہیں۔اور وہ ذمہ دار لوگ جن سے ہمارے وفد ملے ہیں یورپ اور انگلستان کے بڑے بڑے رئیس اور وزراء میں سے ہیں۔ان سے براہ راست زبانی تمام حالات اور معاملات واضح طور پر بیان کئے ہیں۔اور انہوں نے ہم سے وعدے کئے ہیں کہ وہ کابل کی ان حرکات پر خاموشی اختیار نہیں کریں گے۔لیکن گورنمٹیں چونکہ سیاسی معاملات کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتیں اس لئے جہاں انہوں نے ہم سے وعدے کئے ہیں وہاں انہوں نے بھی ہم سے یہ وعدے لئے ہیں کہ ہماری گفتگو کو قطعاً کسی پر ظاہر نہ کیا جائے۔کیونکہ ان دنوں خود ان حکومتوں کو بہت سی سیاسی مجبوریاں اور مشکلات کا سامنا ہے۔ایسی حالت میں ان کی ان کوششوں کو ظاہر کرنا بجائے اس کے کہ ان کو ہم سے ہمدردی پیدا ہو اور وہ ہمارے لئے کوئی مفید کام کریں وہ ہم سے بدظن ہو جائیں گے۔اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ ہماری خاطر وہ اپنے ملک کے فوائد کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اور ان کے خیالات کے اظہار سے ان کے اپنے ملکی فوائد کو نقصان کا سخت خطرہ ہے۔ایسی حالت میں پھر ان کو ہم سے کس طرح ہمدردی رہ سکتی ہے اور ایسی حالت میں تو ان کے اپنے تین آدمی بھی اگر کسی حکومت میں قتل کر دیئے جائیں اور ان کی تائید میں ان کا تمام ملک برباد ہو تا ہو تو وہ ملک کی خاطر اپنے آدمیوں کے مارے جانے کی بھی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔پس ان کی کوششوں کو ظاہر کرنا نہ صرف یہ کہ ان کے ملکی فوائد میں خطرہ پیدا کرنا ہے بلکہ ہمارا بھی اس میں سخت نقصان ہے۔کیونکہ ایسی صورت میں ہم ان کی مدد اور ہمدردی حاصل نہیں کر سکتے۔اس وقت دنیا کی سیاسی حالت یہ ہے کہ دو قسم کی حکومتیں قائم ہیں۔کچھ لوگ تو ایسے ہیں جو پرانا طریق اور پرانا نظام حکومت پسند کرتے ہیں اور وہ اس کے حامی ہیں۔اور کچھ ایسے ہیں جو پرانے طریق حکومت اور نظام کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے سخت مخالف ہیں۔جیسا کہ روس میں بولشویک تحریک ہے۔