خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 79

79 ان کے نزدیک جائداد پر کسی کا کوئی حق نہیں۔تمام زمین حکومت کی ہے۔اور تمام تجارت کی مالک حکومت ہے۔مذہب کا کسی قسم کا کوئی دخل وہ حکومت میں جائز نہیں سمجھتے۔تمام بچے حکومت کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں۔جس کو چاہیں وہ ڈاکٹر بنائیں اور جس کو چاہیں مزدور بنائیں اور جس کو جس ملک میں چاہیں رکھیں۔اسی طرح کسی زمیندار کا یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی زمین میں جب کہ اس کی زمین عمدہ گیہوں نہیں پیدا کر سکتی۔وہ گیہوں بوئے۔بلکہ گورنمنٹ جو کچھ ہونے کے لئے کے گی۔وہی ہو سکے گا۔اور پھر جو پیداوار ہو اس کا مالک زمیندار نہیں ہو گا بلکہ اسے حکومت کے سپرد کرنی پڑے گی۔پھر حکومت اس کو تمام ملک میں تقسیم کرے گی۔سوائے اس کے کہ زمیندار کو ضرورت کے مطابق پیداوار میں سے رکھنے کی اجازت ہو۔باقی پر اس کا کوئی حق نہیں سمجھا جاتا۔یہ نیا دور حکومت روس میں جاری ہوا لیکن دنیا کی دوسری حکومتیں اس تحریک سے خطرہ محسوس کرتی ہیں۔اس لئے وہ ایسی تدابیر اور کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ ان کا ملک بولشویک خیالات سے محفوظ رہے۔چونکہ افغانستان روس اور انگریز کے ملک کے درمیان واقعہ ہے۔اس لئے وہ بھی کھلم کھلا کوئی ایسا طریق اختیار نہیں کر سکتے۔جس سے گورنمنٹ کابل اور ان کے درمیان کشیدگی پیدا ہو کیونکہ ان کو خطرہ ہے کہ پھر افغان روس سے مل جائیں گے۔اسی طرح فرانس اور اٹلی کو بھی یہ خطرہ ہے۔آج سے دس برس پہلے نہ فرانس پر کابل کا کوئی اثر تھا۔نہ اٹلی پر۔یہ ایک معمولی ریاست سمجھی جاتی تھی۔لیکن موجودہ حالات کے ماتحت ان کی نگاہ میں افغانستان کا ان کے ممالک کے نفع و نقصان سے بہت کچھ تعلق ہے۔اس کی وجہ سے سب کی نگاہ میں اس وقت وہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔اگر افغانستان سے انکا مقابلہ تلوار اور بندوق سے ہوتا تو ان کو کچھ فکر نہ ہوتی۔لیکن ان کو مشکل یہ ہے کہ یہ جنگ تلوار اور بارود سے نہیں بلکہ خیالات کی جنگ ہے۔اگر افغانستان روس سے مل جائے تو بولشویک خیالات ان کے ممالک میں اثر کر کے پھر ہندوستان میں بھی پہنچ سکتے ہیں۔اس لئے ان مجبوریوں کی بناء پر وہ افغانستان سے صلح رکھنا چاہتے ہیں۔تاکہ وہ ان کے ساتھ شامل نہ ہو جاوے۔پس جس طرح اس وقت انگریزوں کو افغانستان کے روس کے ساتھ مل جانے سے اپنے ملک کا خطرہ ہے۔اسی طرح اٹلی اور فرانس کو بھی اس کا اندیشہ ہے۔کیونکہ ان خیالات کی اشاعت میں ان کے ملک کی بھی تباہی اور بربادی ہے۔اس لئے سب حکومتیں اس مسئلہ میں احتیاط سے قدم رکھتی ہیں۔