خطبات محمود (جلد 9) — Page 59
59 10 قربانی کرنے والوں کے متعلق جماعت کی ذمہ داری (فرموده ۲۰ مارچ ۱۹۲۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔وہ تکلیف دہ اور صبر و قرار کو کھو دینے والے واقعات جو پچھلے چند مہینوں میں ہمیں پیش آئے۔ان کے متعلق طبعی طور پر ہماری جماعت کے دلوں میں ایک بہت بڑا بہیجان اور جوش ہے اور ہونا چاہیے۔کیونکہ اگر ان مظالم کے بعد جو کابل میں ہمارے مظلوم بھائیوں پر کئے گئے اور اس بیدردانہ سلوک کے بعد جو ہمارے بھائیوں کے ساتھ وہاں روا رکھا گیا۔ہماری جماعت کے دلوں میں دکھ اور درد اور خاص جوش پیدا نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ہماری جماعت کے دل نہ صرف برادرانہ محبت اور ہمدری سے خالی ہیں بلکہ ان کے دل انسانی دلوں سے بدل کر کچھ اور بنا دیئے گئے ہیں۔پس ان واقعات اور حادثات کے بعد جو کابل میں ہمارے مظلوم بھائیوں کو پیش آئے۔ہماری جماعت کے اندر جوش کا پیدا ہونا ایک طبعی امر ہے اور میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت کے دلوں میں اس بات کا بڑا بھاری احساس اور نہایت ہی گہرا اثر ہے۔جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے کچھ بھائی میدان وفا میں نہایت بہادری اور دلیری کے ساتھ اپنے سروں پر بازی کھیل کر بازی لے گئے ہیں۔تو ہمیں بھی ضرور کچھ کرنا چاہیے۔ہماری جماعت کا یہ جوش یہ احساس اور اپنے مظلوم بھائیوں کی مظلومیت پر ان کے دلوں کا یہ اضطراب نہایت قابل قدر ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے موقعوں پر ایسا ہی ہونا چاہیے۔: پس اس جوش اور اس احساس کا طبعی نتیجہ یہ بھی نکلا ہے۔اور نکلنا چاہیے تھا کہ ہم غور کریں ہم نے اپنے ان مظلوم بھائیوں کو جن کے ساتھ نہایت بے دردی کا معاملہ کیا گیا یا جن پر افغانستان میں ظلم ڈہائے جا رہے اور ہر طرح ان کو ستایا جاتا ہے۔انہیں ان مظالم سے نجات دلانے اور دشمنوں کے شر سے بچانے کے لئے کیا کیا اور کیا کر رہے ہیں۔اور آئندہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔