خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 60

60 میں سمجھتا ہوں کہ اس بیدردانہ سلوک پر جو کابل کی حکومت میں ہمارے بھائیوں کے ساتھ کیا گیا اور وہ اندوہ گیں اور المناک واقعہ جو ہمارے مظلوم بھائیوں کو نہایت بے کسی کی حالت میں پیش آیا۔اس کا یہ لازمی نتیجہ تھا۔کہ ہماری جماعت کے دلوں میں قدرتی طور پر اس سے خاص جوش اور اس کا خاص احساس پیدا ہوتا۔اس لئے ہماری جماعت کا جوش اور اس صدمہ کا بڑا بھاری احساس اس وقت ایک طبعی امر ہے جو نہایت قابل قدر ہے۔اور ایک زندہ جماعت کے افراد کی زندگی کا ثبوت ہے۔کیونکہ ہر ایک ایسی جماعت جس کے افراد زندہ ہوں ان کا فرض ہے کہ انہیں اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی تکالیف کا احساس ہو۔پس ہر ایک احمدی اس کا ذمہ دار اور جواب دہ ہے۔اور لازماً ہر ایک کے دل میں ایسے خیالات پیدا ہونے چاہیں۔لیکن یہ واقعات ایسے المناک اور افسوسناک ہیں۔کہ ہماری جماعت کے افراد تو ایک طرف رہے۔وہ لوگ جو ہماری جماعت میں شامل نہیں لیکن ہماری جماعت سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ان کے دلوں پر بھی ان واقعات کا بڑا اثر ہوا ہے۔پھر وہ لوگ جن کو ہماری جماعت سے کوئی ہمدردی نہیں بلکہ وہ ہمارے دشمن ہیں۔بلکہ وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں۔ہمارے بھائیوں کی مظلوم حالت نے ان کے دلوں میں بھی حکومت افغانستان کی نسبت جذبات نفرت کی لہر پیدا کر دی ہے۔حتی کہ بعض ان میں سے اپنے جذبات اور احساسات کو اتنی اہمیت دینے لگ گئے ہیں کہ وہ ہمارے جذبات اور احساسات کا صحیح اندازہ نہ کرتے ہوئے اور ہماری قلبی کیفیات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ خیال کرنے لگ گئے ہیں کہ وہ ہم سے بھی زیادہ اس صدمہ کو محسوس کرتے اور ہم سے زیادہ ہمارے مظلوم بھائیوں کے خیر خواہ ہیں۔چنانچہ ان کے ہمارے پاس خطوط آئے ہیں اور وہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے اپنے مظلوم بھائیوں کی اعانت اور مدد کے لئے کیا کچھ کیا اور کیا کریں گے۔چنانچہ ابھی پچھلے دنوں جو میں ایک کام کے لئے اپنے ایک عزیز کو ملنے کے لئے باہر گیا اور لوٹتے ہوئے لاہور ٹھہرا تو وہاں میرے پاس چند آدمی ان لوگوں کی طرف سے جن کو ہماری جماعت کے لوگ پیغامی کہتے ہیں۔اور وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں مجھے ملنے کے لئے آئے۔(وہ جب تک اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں میں بھی ان کو احمدی ہی کہتا ہوں۔گو عقائد کے لحاظ سے وہ ہمارے سخت مخالف ہیں۔ان کی طرف سے میں اس لئے کہتا ہوں کہ ان کی گفتگو سے جو انہوں نے مجھے سے کی۔میں نے یہ معلوم کیا کہ وہ ان میں ابھی شامل نہیں۔ہاں ان کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں اور ہمارے ایک بھائی نے جو انہیں ساتھ لے کر آئے برسبیل تذکرہ بیان کیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں جو کچھ کابل کے مظلوم احمدیوں کے متعلق مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء نے کیا ہے۔قادیان