خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 55

55 کس طرح ہو سکتی ہے۔جو قوم کے لئے کوئی قربانی کرتا ہے۔اور وہ کس طرح نادان کہلا سکتا ہے جو قوم کی خاطر اپنے فوائد قربان کرتا ہے۔خواہ اس کو اپنی قربانی کا فردی نفع حاصل نہ ہو۔تا ہم اس کی قربانی کے نتیجہ میں سینکڑوں اور ہزاروں اس کی قوم اور جماعت کے لوگ عزت اور ترقی حاصل کر جائیں گے۔ایک نادان کی نگاہ میں اس کی قربانی تباہ کن نظر آئے گی۔لیکن در حقیقت وہ تباہ کن نہیں ہو گی۔اس کی قربانی قومی ترقی کے لئے ایک پیج ہو گی۔دیکھو اگر ایک سائنسدان کی زندگی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہو تا کہ وہ فردی ترقی حاصل کرے۔بلکہ وہ اپنی زندگی کو اپنے علم کے ذریعے قوم کو نفع پہنچانے میں صرف کر دیتا ہے اور دنیا اس کے اس فعل کو تباہ کر دینے والا نہیں سمجھتی۔تو پھر قوم کی خاطر جو قربانی کرتا ہے وہ کیونکر محروم اور نامراد ہو سکتا ہے۔پھر ایک سائنسدان تو اس دنیا میں ہی اس سائنس سے فروی نفع حاصل کرتا ہے اور اگلے جہان میں اس کو اس کا کچھ نفع نہیں پہنچ سکتا۔یا اس کی قوم صرف اسی دنیا میں اس کی قربانی اور ایثار سے فائدہ حاصل کرتی ہے۔لیکن باوجود اس کے اس کی قربانی اور کوشش کو کوئی بیوقوفی نہیں سمجھتا۔بلکہ دنیا اسے ایک نعمت سمجھتی ہے۔تو پھر وہ شخص جو دین کی تائید اور اشاعت کے لئے قربانی کرتا ہے۔وہ کس طرح بیوقوف کہلا سکتا ہے۔کہ جس کے نفع سے مرنے کے بعد بھی وہ فردی طور پر محروم نہیں رہتا۔اور اس کی قوم بھی فائدہ حاصل کرتی ہے۔جو نادان سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے والے اپنا سب کچھ تباہ کرتے ہیں مگر در حقیقت وہی سب کچھ پاتے ہیں۔دیکھو قرآن کریم میں سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔الحمد لله رب العالمين الرحمان الرحیم ملک یوم الدین اس میں خدا تعالیٰ نے اپنی چار صفات کے ماتحت انسان کے چار درجوں کا ذکر فرمایا ہے۔پہلے صفت ربوبیت کا ذکر کیا ہے۔جو کہ انسان کو پیدا اور پھر اس کی اس طرح نشود نما کرتی ہے جس سے کہ وہ کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے اور قومی کاموں میں متصرف ہوتا ہے۔جب یہ مقام اس کو حاصل ہو جاتا ہے۔تو پھر صفت رحمانیت کا ظہور ہوتا ہے۔یعنی ربوبیت کے بعد اپنی رحمانیت سے ترقی کے آلات اور مصالحہ پیدا کرتا ہے۔جس سے کہ انسان کام لے۔چونکہ خدا تعالیٰ رحمان ہے۔اس لئے ربوبیت کے بعد انسان کے کام کرنے کے لئے سامان پیدا اور مہیا کرتا ہے۔پھر ربوبیت اور رحمانیت کے بعد اس امر کی ضرورت ہے کہ انسان کا کام ضائع نہ جائے۔اس لئے وہ رحیم ہے۔کہ انسان کے کاموں کے نیک نتائج پیدا کرتا ہے۔رحیمیت انسان کی فردی ترقی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جس سے کہ انسان فردی طور پر اپنے کاموں کے نیک نتائج حاصل کرتا ہے اور فردی طور پر اس کی اپنی ذات کو فائدہ پہنچتا ہے۔لیکن بعض