خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 54

54 ہیں۔اس نے مجھے دو دفعہ پھل دیئے ہیں۔اس پر بادشاہ نے پھر زہ کہا۔اور وزیر نے تیسری تھیلی اس کو دے دی۔آخر بادشاہ نے کہا۔یہاں سے چلو۔یہاں سے چلو۔یہ بوڑھا تو ہمارا خزانہ خالی کرالے گاهش اس قصے میں خواہ وہ واقعہ میں ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔حقیقت میں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے۔کہ پہلوں نے قربانیاں کیں۔جن کا ہم نے پھل کھایا۔ہم قربانیاں کریں گے تو آئندہ نسلیں فائدہ اٹھائیں گی۔اور در حقیقت اصلی قربانی وہی ہے۔جو قوم کے لئے کی جائے۔دیکھو رسول کریم ﷺ نے اپنی قربانیوں سے ذاتی فائدہ کونسا حاصل کیا۔ایک نادان اور جاہل کہہ سکتا ہے کہ آپ بادشاہ ہو گئے۔مگر سوال یہ ہے کہ اس بادشاہت سے آپ کو کیا فائدہ پہنچا۔کہیں نہ کہ آپ کا غم اور بھی بڑھ گیا۔پہلے اگر چند لوگوں کا آپ کو غم و فکر ہوتا تھا۔تو پھر ہزاروں کا ہو گیا۔ہاں اگر رسول کریم اتنا ہے کروڑوں روپیہ جمع کر لیتے۔یا عمدہ عمدہ محل اور باغات اور جائدادیں اور ہر قسم کے آرام اور آسائیش کے سامان اپنے لئے اور اپنی اولاد کے لئے مہیا کر لیتے تو کوئی کہہ سکتا تھا کہ انہوں نے اپنی قربانیوں کے بدلے میں بادشاہت حاصل کی۔لیکن علمی طور پر دنیا جانتی ہے کہ رسول اللہ الا اللہ نے کوئی روپیہ اور جائیداد پیدا نہیں کی۔غرض قومی ترقی کے لئے قربانی کرنے والے خود غم کھاتے۔حتی کہ قوم اور جماعت اور سلسلہ کی ترقی کی کوشش میں ہی فوت ہو جاتے ہیں اور ان کی اپنی ذات کو اس کا کوئی ثمرہ نہیں ملتا۔بسا اوقات وہ اپنی زندگی میں اپنی قربانیوں کا پھل آپ بھی کھا لیتے ہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص انعام ہوتا ہے۔ورنہ انہیں تو انعام سے زیادہ بہتر صورت میں اگلے جہان میں ملتا ہے۔اور ان کے بعد ان کی نسل اور ان کی قوم کو دنیا میں حاصل ہوتا ہے۔تو اصل قربانی یہی ہے۔زیادہ - دیکھو ایک کسان قحط کے زمانہ میں کس دلیری کے ساتھ گھر سے غلہ نکال کر مٹی میں ملا دیتا ہے۔کوئی بیوقوف کہہ سکتا ہے۔کہ اس نے غلہ کا نقصان کر دیا۔لیکن وہ بیج ہوتا ہے۔جو بہت بڑھ چڑھ کر پھل لاتا ہے۔جو غلہ کھیت میں ڈالا گیا بے شک وہ مٹی میں مل گیا اور بہتوں کی نظر میں وہ ضائع ہو گیا۔اور اس کو کیڑوں نے کھا لیا۔لیکن ایک عقلمند کے نزدیک وہ مٹا نہیں نہ ضائع ہوا۔بلکہ اس ایک دانہ کے مرنے اور مٹنے نے کئی دانے پیدا کر دیئے۔پس اگر ایک زمیندار اس طرح غلہ مٹی میں ملانے سے نادان نہیں کہلا سکتا اور اس کا نقصان نہیں ہو تا۔بلکہ اس کا اس طرح اور بھی غلہ بڑھتا ہے اور ایک کی بجائے سویا ہزار دانے پیدا ہو جاتے ہیں۔تو اس شخص کی قربانی کی قیمت کم