خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 36

36 و سال کے قریب بنتے ہیں۔اسی طرح حضرت نبی کریم سے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیح موعود مبعوث ہوئے۔سکتا اگر یہی طریق اور سنت خدا تعالیٰ کی اس جماعت کے ساتھ بھی رہی تو ہماری جماعت کی عملی زندگی چھ سو سال سے زیادہ معلوم نہیں ہوتی۔مگر جس رفتار سے ہم کام کر رہے ہیں اور جس رفتار سے ہم لوگوں کو سلسلہ میں داخل کر رہے ہیں اس لحاظ سے تو ہم دس ہزار سال میں جا کر اپنے کام کو پورا کر سکتے ہیں۔حالانکہ گزشتہ تجربہ کے لحاظ سے ہمارا زمانہ چھ سو یا سات سو سال یا زیادہ سے زیادہ ہزار سال سے زیادہ نہیں کیونکہ اس کے بعد قیامت ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ قیامت کن معنوں میں ہے۔مگر بہر حال اس کے بعد قیامت کا زمانہ ہے۔پس زیادہ سے زیادہ ہمیں ہزار سال کا زمانہ مل ہے۔جس میں ہمیں تمام دنیا کو مسلمان اور احمدی بنانا ہے۔اور نہ صرف احمدی بنانا ہے بلکہ اسلام سے ان کو واقف کرنا اور ان کی تربیت بھی کرنی ہے۔میرے نزدیک ہماری جماعت میں جو آج تک تبلیغ کا کام کر رہے ہیں ان سب کی تعداد میں ہزار سے زیادہ نہیں۔جس سے ہم اپنی اصل طاقت کو بھی اتنے عرصے میں قائم نہیں رکھ سکتے۔بلکہ اپنی زندگی کو بھی قائم نہیں رکھ سکتے بلکہ اس کام کے لحاظ سے اور اس تعداد کے لحاظ سے جو ہم اپنے سلسلہ میں داخل کر رہے ہیں۔مشکل ہے کہ ہم اپنی زندگی کے آثار کو بھی اتنے عرصہ میں قائم رکھ سکیں۔کیونکہ سلسلہ کی اصلی طاقت کا زمانہ بہت کم ہوتا ہے۔مثلا رسول کریم ﷺ نے بھی تین سو سال کے بعد کے زمانہ کو صحیح اعوج کا زمانہ قرار دیا ہے۔اسی طرح حضرت مسیح کے سلسلہ کی زندگی کا زمانہ بھی تین سو برس ہی تھا۔بلکہ اگر سلسلہ کی روحانی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ زمانہ اس سے بھی بہت کم ہے۔اس کے لئے سویا سوا سو کا ہی زمانہ رہ جاتا ہے۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ظاہری طور پر اور روحانی طور پر عملی رنگ میں یہ کام جس کے پیچھے ہم پڑے ہوئے ہیں ایک ناممکن کام نظر آتا ہے۔مگر یہ ناممکن نہیں بلکہ ممکن ہے۔خدا کے وعدے بچے ہیں اور وہ ضرور پورے ہو کر رہیں گے۔مگر ہماری سستی اور غفلت اور ہماری کوتاہی اس کام کو پیچھے ڈال رہی ہے۔میں نے بارہا جماعت کو اور جماعت کے افسروں اور کارکنوں کو توجہ دلائی ہے۔کہ وہ اپنے فرض کو اور کام کی نزاکت کو سمجھیں۔مگر مجھے افسوس ہے کہ باوجود میرے بار بار توجہ دلانے کے بھی بہت کم ہیں جنہوں نے اس طرف توجہ کی اور مجھے افسوس ہے کہ جو متوجہ ہوئے ہیں انہوں نے بھی جو توجہ کا حق ہے ویسی توجہ نہیں کی۔اور ان میں سے بھی بہت کم ہیں جنہوں نے اس بات کو سمجھا ہو