خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 35

35 ہاتھوں میں آتے ہیں اور ان کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔اسی طرح مذہب کی اصل قیمت بھی اس وقت سے شروع ہوتی ہے کہ جب وہ دنیا کو فائدہ پہنچائے۔پس کسی مذہب اور سلسلہ پر تب ہی فخر کیا جا سکتا ہے اور اس کے ماننے والے تب ہی اس پر ناز کر سکتے ہیں کہ وہ دنیا میں اس کو پھیلا کر لوگوں کو اس کا حلقہ بگوش بنا دیں۔مجھے افسوس سے اس امر کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت کہ جس کا قیام اس اشاعت کے زمانہ میں ہوا ہے۔وہ اس اشاعت کے کام میں بہت پیچھے ہے۔جو تعداد اس وقت کام کرنے والوں کی ہے۔اور جو تعداد اس وقت سلسلہ میں داخل ہونے والوں کی ہے۔ان کی تعداد اور اپنے کام کو مد نظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ جو کچھ ہم نے کیا وہ بالکل حقیر ہے۔یہ بات جو میں کہتا ہوں تو اپنی محنت کے لحاظ سے درنہ خدا کے فضلوں پر نظر کرتے ہوئے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ اس کا فضل اور انعام ہی انعام ہے۔مگر ہمیں جو کوشش اور محنت سے کام لینا چاہیے تھا اور جو اس کے نتائج پیدا ہونے چاہیے تھے نہ ہم نے وہ کوشش کی اور نہ وہ نتائج پیدا ہوئے۔اگر دیکھا جائے تو جو لوگ کہ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔وہ بھی اکثر ایسے لوگ ہیں جو ہماری کوشش سے سلسلہ میں داخل نہیں ہوئے۔بہت ہیں جو خوابوں کے ذریعے داخل ہوئے اور بہت ہیں جو پہلے بزرگوں کی حضرت مسیح موعود کے متعلق باتیں سن کر ایمان لائے اور سلسلہ میں داخل ہوئے اور بہت ہیں جنہوں نے حضرت صاحب کے نشانات دیکھے اور بہت ایسے ہیں کہ جنہوں نے حضرت صاحب کی تائید میں نشان دیکھے اور وہ سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔اگر اس موجودہ رفتار سے لوگ سلسلہ میں داخل ہوتے رہے تو کہیں دس ہزار سال میں جا کر ہم دنیا کو اپنے سلسلہ میں داخل کر سکتے ہیں۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس سلسلہ کو اتنی لمبی زندگی بھی میسر آئے گی۔نبیوں کے سلسلوں کو ہم دیکھتے ہیں۔تو آدم " کا سلسلہ نو سو سال تک اور حضرت نوح کا سلسلہ ساڑھے نو سو سال تک اور حضرت موسیٰ کا انیس سو سال تک چلا پھر ختم ہو گیا۔غرض جتنے سلسلے بھی شروع ہوئے۔دو ہزار سال سے بڑھ کر کسی نے زندگی نہیں پائی اور اگر ہم یہ دیکھیں کہ جو نبی سلسلہ کی آخری اینٹ کے طور پر آتا ہے۔ان کی ابتداء بالعموم کمزور ہوتی ہے۔تو ہماری گھبراہٹ اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ حضرت نوح سے حضرت ابراہیم تک اگر نو سو سال بنتے ہیں۔تو حضرت ابراہیم سے حضرت موسی تک دو سو سے چھ سو سال تک بنتے ہیں۔اسی طرح حضرت موسی سے لیکر حضرت مسیح تک تیرہ سو سال بنتے ہیں۔تو حضرت مسیح سے حضرت نبی کریم ﷺ تک چھ