خطبات محمود (جلد 9) — Page 379
379 تحمید ہے۔اس سے انسان جلدی ترقی کرنی شروع کر دیتا ہے۔دنیا میں ہر ایک شخص جو بات حاصل کرتا ہے۔عام طور پر سامنے نمونہ رکھ کر حاصل کرتا ہے۔اسی طرح جب کوئی اعمال کو درست اور صحیح بنانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بھی کسی نمونہ کو سامنہ رکھتا ہے اور یہ دیکھ کر کہ فلاں شخص کے اعمال اچھے ہیں اور اعمال کے اچھا ہونے سے اسے یہ فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔وہ بھی کوشش کرتا ہے کہ اپنے اعمال بھی اس شخص جیسے بنائے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور فرض بھی ہے جو انسان کے زمہ ہے اور وہ اس غرض کا حاصل کرنا ہے۔جس کے لئے کہ وہ دنیا میں بھیجا گیا مگر یہ غرض حاصل نہیں ہو سکتی۔جب تک انسان ویسے عمل نہ کرے جو اس غرض کے حاصل کرنے والے ہیں اور چونکہ انسان اکثر نمونہ کو دیکھ کر کچھ حاصل کرتا ہے۔اس لئے اس غرض کے حاصل کرنے کے لئے بھی وہ بعض ایسے لوگوں کے اعمال سامنے رکھ لیتا ہے۔جنہوں نے اس غرض کو حاصل کر لیا۔پھر جب وہ ان پر عمل پیرا ہو تو اس غرض کو حاصل کر لیتا ہے جس کے لئے وہ دنیا میں بھیجا گیا۔پس ہماری جماعت کو بھی اس غرض کے حصول کے لئے منعم علیہ لوگوں کے اعمال کو نمونہ بنانا چاہئے تاکہ ان کا دل بھی ایسا ہو جائے کہ خدا کی صفات اس پر جلوہ گر ہوں اور اپنی پیدائش کی غرض کو پالیں۔تسبیح و تحمید انسان کے دل کو ایسا بنا دیتی ہے اور وہ غرض جو کہ انسان کے دنیا میں آنے کی ہے اس کے ذریعہ پوری ہو جاتی ہے۔کیونکہ جب ایک شخص خدا کی تسبیح و تحمید کرتا ہے تو دونوں باتیں، اس کے سامنے آجاتی ہیں۔جب ہم کہتے ہیں۔خدا پاک ہے تو ہمیں بھی پاک بننے کا خیال آتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہم اس کو پا نہیں سکتے اور چونکہ وہ پاک ہے اور اس کو پانے کے لئے پاک ہونا ضروری ہے۔اس لئے ہم اگر اس کو پانا چاہیں تو ہمیں پاک ہونا چاہئے اس لئے جب ہم خدا کو پاک کہتے ہیں تو ہمیں بھی پاک ہونے کا خیال پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح جب ہم تسبیح و تحمید کریں گے۔تو بہترین نمونہ صفات اللہ کا ہمارے سامنے آجائے گا اور خدا تعالیٰ کی صفات کے نمونہ کو دیکھ کر ہمیں خیال پیدا ہو گا کہ ہم میں بھی یہ صفات پیدا ہوں۔نیز پھر اس سے یہ خیال پیدا ہو گا کہ ہمیں اپنے عیوب دور کرنے چاہئیں اور بجائے ان کے اپنے اندر خوبیاں پیدا کرنی چاہئیں۔ان دونوں صورتوں میں تسبیح و تحمید مفید ہوگی۔دوسرا خاص ذکر الہی استغفار ہے۔اس میں بظاہر ایک شخص اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے۔رحقیقت اس میں بھی خدا کی صفات ہی کا ذکر رہتا ہے۔کبھی نہیں دیکھو گے کہ ایک شخص وکیل سے جا کر کے کہ مجھے فلاں مرض ہے اس کے لئے نسخہ لکھ دیجئے۔اسی طرح کبھی نہیں دیکھو ور