خطبات محمود (جلد 9) — Page 380
380 گے کہ ایک شخص ڈاکٹر کے پاس جائے اور اپنا مقدمہ بیان کرکے اس سے کہے کہ اس کے متعلق مشورہ دیجئے۔کیوں؟ اس لئے کہ انسان کا خاصہ یہ کہ وہ اس کے پاس جاتا ہے جس سے اسے امید ہو کہ میرا فلاں کام کر سکتا ہے۔ایک وکیل چونکہ نئی نہیں لکھ سکتا۔اس لئے وہ اس کے پاس اس غرض کے لئے نہیں جاتا بلکہ ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ڈاکٹر نسخہ لکھ سکتا ہے۔پس ینب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا ہمیں معاف فرما۔تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ رہ منور ہے۔رحیم ہے۔حلیم ہے۔اور معاف کرتا ہے۔پس استغفار بھی ذکر الہی ہے اور ایسا ذکر الہی ہے کہ اسے کثرت سے کرنا چاہئے کیونکہ انسان بغیر خدا کی مدد و نصرت کے کچھ کر نہیں کر سکتا اور نہ ہی بغیر اس کے اسے کچھ مل سکتا ہے۔پھر استغفار میں اپنی غلطیوں کی معافی بھی ہوتی ہے اور خدا کی 20 و نصرت بھی ملتی ہے۔پس استغفار میں یہ دونوں باتیں ہیں کہ انسان اپنی غلطیوں کا اقرار بھی کرتا ہے۔جس سے اسے معافی ملتی اور مدد و نصرت حاصل ہوتی ہے اور صفات الہی کو بھی سامنے لاتا ہے۔اس کے علاوہ درود ہے۔درود سے بھی انسان روحانی فوائد پاتا ہے۔اور روحانی ترقی کرتا ہے۔ہماری جماعت کو چاہئے کہ خصوصیت کے ساتھ درود کی کثرت، کو اپنے لئے لازم کرے اور مسجد میں آ کر تو بالضرور آنحضرت ان پر درود پڑھے۔درود در اصل اس احسان کا قرار ہے جو آنحضرت ا نے ہم پر کیا اور احسان کا اقرار انسان کے لئے از حد ضروری ہے۔کبھی کسی شخص کے اعمال میں پاکیزگی نہیں پیدا ہو سکتی جب تک وہ اپنے احسان کرنے والے کا احسان مند نہیں ہوتا۔کیونکہ تمام صفائی اعمال میں احسان مندی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اس لئے ہمارے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ ہم کثرت سے درود پڑھیں تاکہ ہم آنحضرت کے احسانوں کے لئے آپ کے احسان مند ہوں اور پھر ہمارے اعمال میں بھی پاکیزگی اور صفائی پیدا ہو۔جو شخص کسی کے احسانوں کے لئے اپنے محسن کا احسان مند نہیں ہوتا۔وہ فتنہ و فساد کا بیج ہوتا ہے کیونکہ نا احسان مندی اور نا شکر گزاری ہمیشہ فساد و جھگڑے پیدا کرتی ہے۔غور کر کے دیکھ لو جتنی لڑائیاں اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔وہ نا احسان مندی سے ہی ہوتے ہیں۔پس ہمیں احسان فراموش نہیں بننا چاہئے۔آنحضرت ﷺ کے بے شمار احسان ہم پر ہیں۔ہمیں ان کو یاد رکھنا چاہئے اور ان کا اقرار کرتے رہنا چاہیئے۔آنحضرت جب مدینہ تشریف لے گئے۔تو مدینہ کے بعض لوگوں نے اس سے برا ال