خطبات محمود (جلد 9) — Page 340
340 40 نماز باجماعت کی تاکید (فرموده ۲۰ نومبر ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے۔باوجود اس کے کہ نماز باجماعت کی تاکید ایسی شدت کے ساتھ آئی ہے۔جس کے بعد مسلمان کہلاتے ہوئے کسی شخص کو انکار کی گنجائش رہتی ہی نہیں لیکن پھر بھی ابھی تک بعض لوگ اس میں سستی کرتے ہیں۔باجماعت نماز پڑھنے کی جس قدر تاکید کی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایمان کی جان اور روح ہے اور ایمان کے بہت بڑے حصہ کا اس پر دارومدار ہے۔مگر باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ساری نمازوں میں شامل نہ ہونے والا تو الگ رہا صبح اور عشاء کی نمازوں میں شامل نہ ہونے والا بھی منافق ہے۔1۔افسوس ہے بہت سے لوگ اس طرف جیسی کہ چاہئے توجہ نہیں کرتے۔میں نے بار بار توجہ دلائی ہے کہ نماز باجماعت میں ستی نہیں کرنی چاہئے مگر مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور میں نہیں سمجھتا کہ مسلمان کہلا کر پھر احمدی مسلمان کہلا کر اس قدر غفلت اور سستی کے کیا معنی ہیں؟ ہماری جماعت کا جو حصہ نماز با جماعت کی قدر نہیں کرتا یا اس کی اہمیت نہیں سمجھتا۔میں اس کے متعلق یہ تو خیال ہی نہیں کر سکتا کہ وہ مسلمان کہلاتا ہو اور نمازیں نہ پڑھتا ہو مگر یہ بات میں ضرور کہوں گا کہ وہ نمازیں پڑھنے میں سستی سے کام لیتا ہے اور اگر میرے مدنظر ان کی کم علمی جهالت، نادانی یا بعض ایسی مجبوریاں جو بعض اوقات انسان کو لاحق ہو جاتی ہیں نہ ہوتیں تو میں یہی کہتا کہ جو شخص نماز باجماعت نہیں پڑھتا۔وہ مسلمان نہیں اور احمدی کہلانے کے لائق نہیں۔مگر بہت سے لوگ جاہل ہوتے ہیں جو اپنی جہالت کے سبب ایک شے کی حقیقت نہیں سمجھ سکتے۔بہت