خطبات محمود (جلد 9) — Page 294
294 چھن جاتا ہے۔میں کسی اور موقع پر اس کو بیان کروں گا۔کہ موہبت بھی بغیر کسی عمل کے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔اس وقت میں قادیان کی جماعت کو خصوصاً اور باہر کی جماعتوں کو عموماً یہ تاکید کرتا ہوں کہ انہیں ہرگز ست نہ ہونا چاہئے۔ایک دن کی سستی بعض اوقات ایمان کے ضائع ہو جانے کا باعث ہو جاتی ہے اور ذرا سی بے قدری صلب نعمت کا باعث بن جاتی ہے۔ایمان کا پودا سب سے نازک پودا ہے۔اگر اس کے متعلق ستی کی جائے تو فوراً مرجھا جاتا ہے۔اس کا بڑھانا مشکل ہوتا ہے لیکن اسے سکھانا آسان ہے۔انسان ایک وقت میں ولی نہیں ہو جاتا بلکہ بڑی محنت اور بڑے بڑے مجاہدات کے بعد ولی ہوتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک فوری تغییر انسان میں پیدا ہو جاتا ہے اور وہ چور سے قطب بن جاتا ہے لیکن مجھے اس جگہ اس کی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ اس میں بعض ایسی باریک باتیں ہیں کہ انسانی عقل ان کو دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے اور پھر یہ بات بھی یونہی نہیں ہو جاتی۔بلکہ اپنے جذبہ عقیدت اور خیالات کے فوری تغیر سے محض بطریق موہت ایک شخص ان سب مراحل کو برخلاف عام لوگوں کے جلدی طے کر لیتا ہے جو اس مقام پر پہنچنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔مگر اس قسم کے واقعات تقدیر خاص کے ماتحت ہوتے ہیں۔عام طور پر واقع نہیں ہوتے۔عام طور پر تو یہی بات ہے کہ بڑی بڑی محنتوں بڑی بڑی ریا منتوں اور بڑے بڑے مجاہدوں کے بعد ایک شخص مقام ولایت پاتا ہے لیکن اس کے بالمقابل کفر کی یہ حالت ہے کہ آنکھ جھپکتے ابھی دیر لگتی ہے لیکن کفر کے گڑھے میں گرتے دیر نہیں لگتی۔ایک لمحہ کے اندر اندر انسان کے قلب سے ایمان اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح تیر کمان سے۔دیکھو جب حضرت موسیٰ کے مقابلے میں بلعم باعور کھڑا ہوا تو وہ کس سرعت کے ساتھ گرا۔سالہا سال کی کوششوں اور محنتوں کے بعد اس کی دعائیں قبول ہوئی شروع ہوئی تھیں۔مگر حضرت موسیٰ“ کے مقابلہ میں کھڑے ہونے سے یک لخت گر گیا۔یہ عام بات ہے۔چڑہائی مشکل ہوتی ہے اور اترائی آسان ہے۔اوپر سے بوجھ پھینک دینا آسان ہے لیکن نیچے سے اٹھا کر اوپر چڑھانا مشکل ہے۔یہی حال ایمان کا ہے۔پس ایمان کی حفاظت کرو اور اس کی حفاظت یہی ہے کہ اس کی طرف سے غفلت نہ کرو۔تم دنیا میں معمولی سے معمولی چیزوں کی حفاظت میں لگے رہتے ہو۔لیکن اگر ایمان جیسی قیمتی چیز کی حفاظت تم چھوڑ دو۔تو اس سے بڑھ کر خطر ناک بات اور کوئی نہیں ہوگی۔پس اس بات کا خیال رکھو کہ متواتر اس کی حفاظت ہو۔یہ نہیں کہ ایک وقت تو تم جوش سے کام کرو اور