خطبات محمود (جلد 9) — Page 293
293 تو کام پر بے حد زور دیتی ہیں لیکن دوسرے وقت پھر غافل ہو جاتی ہیں اور اس طریق سے ایمان کی وہ حفاظت نہیں ہو سکتی جو ہونی چاہئے۔جس طرح ہم جان کی حفاظت کے لئے باقاعدہ غذا کھاتے ہیں۔اسی طرح ایمان کی حفاظت کے لئے ہمیں علم و عمل کی باقاعدگی کی ضرورت ہے۔اگر یہ نہیں تو ہمارا ایمان بھی محفوظ نہیں۔پس اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔بے شک خدا تعالٰی نے آرام کے لئے بھی وقت رکھتے ہیں۔مثلا" نیند ہے۔جس کی غرض یہ ہے کہ جب انسان کام کرتے کرتے تھک جائے تو سو کر تازہ دم ہو جائے لیکن نیند کے یہ معنی نہیں کہ ایک شخص ہمیشہ سویا ہی رہے۔نیند تو کام کرنے کے بعد آرام لینے کو کہتے ہیں۔کیا تم سال بھر لگا تار سویا کرتے ہو۔اگر نہیں تو اس کے کیا معنی کہ ایک وقت تو کام کرو اور پھر ایک لمبا عرصہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہو اور اس حد تک غفلت اختیار کرد که ایمان خطرہ میں پڑ جائے۔بیشک قبض اور نبسط کے ماتحت انسان پر دونوں کیفیتیں آتی ہیں۔مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ ہر وقت ہی انسان اپنے آپ کو قبض کی حالت میں رکھے اور خیال ہی نہ کرے کہ مجھ پر کبھی بسط کی حالت بھی آسکتی ہے۔دیکھو تم سوتے بھی ہو اور جاگتے بھی ہو۔یہ نہیں ہوتا کہ تم ہمیشہ سوتے ہی رہو۔اسی طرح قبض اور بسط کی حالت ہے۔قبض آتی ہے مگر وہ کسی بسط کے لئے آتی ہے نہ یہ کہ ہمیشہ انسان پر مستولی رہنے کے لئے آتی ہے اور یہ کبھی نہیں ہوتا کہ ایک انسان کو جب نیند آگئی تو پھر بیداری آ ہی نہیں سکتی۔اگر ایسا ہو کہ بیداری نہ آئے تو لوگ مر جائیں اور زندہ نہ رہیں۔ابھی نیند کی ایک بیماری نکلی ہے۔جس میں انسان دو تین ماہ سوتا ہے اور پھر مرجاتا ہے لیکن بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کے سونے کے اوقات کی نسبت جاگنے کے اوقات سے لگائی جائے۔تو وہ سال میں چھ ماہ سوتے ہیں لیکن مرتے نہیں۔کیونکہ وہ مسلسل نیند میں نہیں رہتے۔اگر یہ بھی متواتر سوئیں۔تو مر جائیں۔یہی حالت ایمان کی ہے۔اس پر بھی قبض اور بسط کی حالت آتی ہے لیکن قبض کی حال مسلسل اور متواتر چلی جائے تو ایمان مرجاتا ہے۔اگر کوئی شخص ایسا کرے گا اور ہمیشہ اپنے آپ کو قبض کی حالت میں رکھے گا تو یقیناً اس کے ایمان پر موت آجائے گی۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ایمان کی حفاظت کریں اور یہ نہ کریں کہ ایک وقت تو ہوشیار ہوں اور دوسرے وقت غافل اور کمزور۔کیونکہ جو لوگ ہر وقت ہوشیار اور چوکس نہ ہوں گے ان کے ایمان ضائع ہو جائیں گے۔ایمان ایک موہت اور انعام ہے۔اگر کوئی شخص اس کی بے قدری کرتا ہے تو وہ اس سے