خطبات محمود (جلد 9) — Page 295
295 دوسرے وقت بالکل خاموش ہو جاؤ۔آنحضرت ﷺ ایک دفعہ ایک عورت کے ہاں تشریف لے گئے۔اس نے چھت کے ساتھ ایک رسی باندھ رکھی تھی۔آپ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا۔یہ رسی کیسی ہے۔اس نے عرض کی کہ اپنے آپ کو عبادت کے لئے بیدار رکھنے کے لئے اس سے اپنے سر کی چوٹی باندھ لیتی ہوں۔یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔عبادت وہی اچھی ہے جس میں دوام ہو اور جسے آسانی کے ساتھ ایک شخص نبھا سکے۔تو دوام نہایت ضروری چیز ہے اور ہر ایک شخص کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایمان کی حفاظت کے لئے ہمیشگی اختیار کرے۔اس موقع پر شائد کوئی کہے کہ چونکہ ہم پر بڑے بڑے بوجھ لا دے گئے ہیں۔اس لئے ہم اپنی کوششوں کو دائم برقرار نہیں رکھ سکتے۔ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ اپنی مالی اور جسمانی قربانیوں کو پہلی قربانیوں کے سامنے رکھ کر دیکھے۔جو پہلے لوگوں نے کیں۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان کے مقابل پر ان کی کوئی حقیقت نہیں۔جب یہ بات ہے کہ پہلی قربانیوں کے بالمقابل ہماری قربانیاں کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتیں۔تو کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ ہم پر بوجھ لادے گئے ہیں اور ہم دائمی طور پر انہیں اٹھا نہیں سکتے۔ابھی تو تم نے فرض بھی پورے نہیں کئے۔کجا سفن وتر اور نفل - نوافل کے متعلق تو یہ کہہ سکتے ہو کہ یہ زیادہ ہیں یا کم لیکن ابھی تو جو کچھ تم کر رہے ہو یا جو کچھ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔یہ سب فرائض میں ہی داخل ہے۔ابھی تو تم نے وہ قربانیاں کرنی ہیں جو بطریق سفن سمجھنی چاہئیں۔پھر ایسی قربانیاں بھی کرنی ہیں جن کا تمہیں حکم تو نہیں مگر تم نے اپنی خوشی سے کرنی ہیں۔ان کو بطور نوافل کے سمجھنا چاہئے۔لیکن ابھی سے یہ کہنا جبکہ ابھی فرض بھی پوری طرح ادا نہیں ہوئے کہ یہ بوجھ ہیں اور ہم دائمی طور پر انہیں قائم نہیں رکھ سکتے۔خطرناک بات ہے اور اگر یہی حال ہے تو پھر ان قربانیوں کی کوئی امید نہ کرنی چاہئے جو بطریق سنت تم نے کرنی ہیں اور ان قربانیوں کی بھی کوئی امید نہ رکھنی چاہئے جو بطریق نفل تم نے کرنی ہیں کیونکہ جب تم فرائض کے ادا کرنے سے ہچکچاتے ہو تو سنت، نفل ، و تر وغیرہ کی کس طرح توقع ہو سکتی ہے۔پس تمہیں ہوشیار ہو جانا چاہئے تا ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں ورغلائے کہ تمہاری قربانیاں بڑھ گئیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ بڑھ نہیں گئیں بلکہ وہ تو ابھی پوری بھی نہیں ہوئیں اور بہت ہی کم ہیں جب تم اس مقام پر پہنچو گے کہ یہ پوری ہو جائیں تو پھر ایسی قربانیاں شروع ہونگی جو سنت کے طور پر ہونگی پھر ان کے بعد وہ قربانیاں ہونگی جو اپنی خوشی کے ساتھ کی جائیں گی۔اور وہ نفل کے طور