خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 141

141 19 اخلاق اور معاملات کی درستی کی تلقین فرموده ۲۲ مئی ۱۹۲۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں اخلاق کے متعلق اور معاملات کے متعلق کچھ بیان کیا تھا اور اس کی طرف دوستوں کو توجہ دلائی تھی۔آج میں اسی سلسلہ مضمون میں بعض اصولی مسائل کو لینا چاہتا ہوں جن کے ذریعہ اخلاق اور معاملات کی درستی میں مدد ملتی ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کو خدا تعالٰی نے ایسا پیدا کیا ہے کہ اس کی اخلاقی اور دنیوی ترقی بہت حد تک اس کی اپنی ذات کے ساتھ ہی تعلق نہیں رکھتی بلکہ اس کی ترقی کی وابستگی دیگر بنی نوع انسان کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے۔کوئی انسان ایسا نہیں جو اپنی ذات میں اپنی ترقی اور اصلاح میں بعض دوسرے لوگوں کا محتاج نہیں۔اور اس کی ترقی دوسروں کے ساتھ وابستہ نہ ہو اس کے سارے کے سارے اعمال دوسرے لوگوں کے وجودوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔بعض خدا تعالیٰ سے اور بعض انبیاء و رسل سے تعلق رکھتے ہیں۔اور بعض امور میں وہ دوسرے انسانوں سے مل کر خدا تعالٰی کا قرب پانے اور اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کا محتاج ہے۔پس کیا بلحاظ اخلاق اور کیا بلحاظ معاملات۔انسان کامل ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ دوسروں سے تعلق نہ رکھے اور ان سے سیکھے نہیں۔ہم انسان کی بناوٹ کے لحاظ سے دیکھتے ہیں کہ اس کے علم کا بیشتر حصہ وہ ہے جو وہ دوسروں سے سیکھتا ہے۔میں سمجھتا ہوں ایک انسان کے علم کے اگر سو نمبر ہوں تو ان میں سے نانویں نمبر ایسے ہوں گے۔جو اس نے دوسروں سے حاصل کئے ہوں گے۔اور شائد ایک اس کے تجربہ کا نتیجہ ہو گا۔ہمارا کھانا۔پینا۔سونا۔لکھنا۔پڑھنا۔کوئی پیشہ صنعت یا حرفت کرنا۔یہ تمام ایسے امور ہیں جو دوسروں سے سیکھے جاتے ہیں۔