خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 140

1 140 ہیں۔آپ اپنی ہمشیرہ کے گھر گئے۔اور غصہ میں ان کو مارنا شروع کر دیا اور کہا میں نے سنا ہے تم مسلمان ہو گئے ہو اور قرآن شریف پڑھتے ہو۔انہوں نے نہایت جرات کے ساتھ کہا۔ہاں ہم قرآن شریف پڑھتے ہیں۔اور پڑھیں گے۔آپ بھی اگر چاہیں تو ہم سنا سکتے ہیں۔آپ نے کہا اچھا مجھے بھی سناؤ۔چنانچہ جب آپ کو قرآن کریم پڑھ کر سنایا گیا تو آپ ایمان لے آئے۔(۲) آپ کی ہمشیرہ نے اسلام کی خاطر جس دلیری اور جرأت کا ثبوت دیا اس کا اثر آپ پر اس قدر ہوا کہ آپ نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ مذہب کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔تو جرأت اور دلیری دوسروں پر اثر کئے بغیر نہیں رہتی۔جو شخص تبلیغ کرتے وقت مخالفین کے مظالم اور سختیوں پر اس لئے صبر کرتا ہے کہ ان سختیوں کا جواب دینے سے گو میرا تو غصہ دور ہو جائے گا لیکن اس شخص کو ہدایت نہ ہوگی۔اور وہ ہمیشہ کے لئے صراط مستقیم سے دور جا پڑے گا۔اس کا صبر نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا صبر ہے۔اور اس کے اندر ایسی شرافت اور عالی حوصلگی پائی جاتی ہے کہ مخالفین اس نظارہ کو دیکھ کر گھائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔پس میں اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ دین کی خاطر دلیری کے ساتھ ماریں کھائیں مگر عدالتوں کے دروازے نہ کھٹکھٹائیں۔مخالفین کی گالیوں کو صبر کے ساتھ سنیں اور بچے ہو کر جھوٹے کہلائیں۔جب ہماری جماعت کے اندر یہ حالت پیدا ہو جائے گی تو ہمارے مخالفین کے قلوب خود بخود ہماری طرف کھنچے چلے آئیں گے اور وہ بھی اسی چشمہ کا پانی پینے کے قابل ہو جائیں گے جس کے شیریں پانی سے ہم سیراب ہو چکے ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم بزدل نہ ہوں۔بلکہ اس کی رضاء کے حصول کے لئے جو جو مصیبتیں اور تکالیف ہمیں پیش آئیں ان کو صبر کے ساتھ برداشت کریں۔اور ہمارے وہ بھائی جو صداقت سے دور پڑے ہوئے ہیں وہ بھی اس دروازے کی طرف آجائیں۔جس کی طرف جھک کر ہم نے ہدایت اور سچائی کو پایا۔امه مهاجرین حصہ دوم مرتبه شاه معین الدین ندوی ص ۱۵۲ الفضل ۲۳ مئی ۱۹۲۵ء) ۲ سیرت ابن ہشام جزو اول حالات اسلام عمر بن الخطاب