خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 142

142 ہم کھانا کھاتے ہیں اور کھانے کے لئے گیہوں کو منتخب کرتے ہیں مگر ہمارا یہ انتخاب اس لئے نہیں کہ ہم نے خود تجربہ کرنے کے بعد اس کو منتخب کیا ہے۔بلکہ اس لئے ہے کہ ہمارے ماں باپ اور بڑوں نے اس کو منتخب کیا اور کھایا ہے۔اسی طرح ہم سالن میں نمک مرچ ڈالتے ہیں۔اس کا مفید ہونا نہ ہونا ہم نے اپنے تجربے سے معلوم نہیں کیا۔بلکہ ماں باپ کے تجربہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اسی طرح سبزیوں کے متعلق کہ فلاں گرم ہے۔فلاں گلے کو نقصان پہنچاتی ہے۔فلاں کھانسی پیدا کرتی ہے۔کیا ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا اور معلوم کیا ہے۔نہیں بلکہ ہم نے ماں باپ سے سنا اور مان لیا۔اسی طرح ادویہ کا حال ہے ڈاکٹروں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس نے ہر ایک دوائی کو خود تجربہ کر کے اس کا مفید یا غیر مفید ہونا معلوم کیا ہو۔شائد کوئی ایک آدھ دوائی ایسی ہو جو کسی ڈاکٹر کو ذاتی تجربہ سے معلوم ہوئی ہو۔ورنہ سب کی سب دوائیں ایسی ہوتی ہیں کہ کتابوں میں لکھا ہوتا ہے۔یہ بلغم نکالتی ہے۔یہ ورم پیدا کرتی ہے۔یا یہ درد دور کرتی ہے وغیرہ۔تو انسان کے علم کا اکثر حصہ وہی ہوتا ہے جو دوسروں سے سنی سنائی باتیں ہیں۔بلکہ اگر صبح سے شام تک انسان جو افعال کرتا ہے۔اور جن کو اچھا یا برا کہتا ہے انہیں دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ بعض دفعہ سارے دن میں ایک بھی ایسی بات نہیں ہو گی جو اس نے اپنے تجربے سے معلوم کی ہو کہ یہ اچھی ہے یا بری۔بلکہ سب کی سب دوسروں کی تجربہ شدہ ہوں گی۔پس ہمارے علم کا بیشتر حصہ دوسروں کا محتاج ہے۔اس لئے ہر ایک بات کی بنیاد صرف اپنی عقل پر رکھنا درست نہیں۔یہ صحیح ہے کہ انسان کی اپنی واحد عقل بھی اس کے علوم کی ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔لیکن یہ بات بھی تو ہے کہ بنی نوع انسان کی مجموعی عقل بھی ایک بڑا بھاری ذریعہ ہے۔پس صرف اس کی واحد عقل ہی اس کی ترقی کا ذریعہ نہیں۔بلکہ اور بھی بیسیوں عقلیں ہیں۔جن کا اس کی ترقی میں ہاتھ ہے اور وہ اپنے مقابلہ میں اپنی واحد عقل کو چھوڑ دیتا ہے۔اس وقت یہ نہیں کہتا کہ میں ہی صحیح کہتا ہوں اور دوسرے غلط کہتے ہیں۔کیونکہ علم کے حصول کے لئے یہ کافی نہیں کہ اس کی عقل کہہ دے کہ یہ بات یوں ہے تو وہ اسی طرح ہو۔بلکہ دوسروں کی عقلیں جو کہتی ہیں وہ درست ہوتا ہے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کی عقلیں کیا چیز ہیں۔بلکہ عملی طور سے اسے یہی ماننا پڑتا ہے کہ اس کی عقل ان عقلوں کے مقابلہ میں کچھ چیز نہیں۔اپنی واحد عقل کا فیصلہ اسی وقت قابل قبول ہو سکتا ہے جب کہ یہ کہا جائے کہ عقل کبھی غلطی نہیں کرتی۔اور جب یہ کہا جائے گا تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ سب عقلوں کو ایک ہی فیصلہ