خطبات محمود (جلد 8) — Page 406
406 آسائش میں بھی گزار لی تو کیا کر لیا۔اس زندگی میں جس کی نسبت ہمیں یقین ہے۔کیونکہ ایک صادق ہستی نے اس کی خبر دی ہے۔اور جو ہمیشہ کی زندگی ہے۔اس میں اس کے لئے دانتوں کا پینا اور رونا پیٹنا ہو گا۔پس اس کا مال کیا فائدہ دے سکے گا۔کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کی زبان پر تھوڑی دیر کے لئے ایک لڈو رکھ کر پھر اسے کاٹ دیا جاوے یا اسے ایک خوش منظر دکھانے کے بعد اس کی آنکھوں میں سوئی چبھو کر اسے اندھا کر دیا جائے۔اگر تم اسی چھوٹی تکلیف کو ایک وقتی آرام کے بعد برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔تو ایسے مالدار کو دیکھ کر کیسے خوش ہو سکتے ہو۔جس نے اگلی زندگی میں اس سے بھی بڑھ کر تکالیف جھیلنی ہیں۔پس یہی نہیں کہ تمہارے غریب اور بیکس ہمسائے حق و صداقت کے محتاج ہیں۔بلکہ وہ بڑے بڑے متکبر لوگ جو گردنوں کی چربی کی وجہ سے اس صدات کی طرف توجہ نہیں کر سکتے۔جو روحانی زندگی کے لئے خدا نے نازل کی ہے۔اور جن کے پاؤں فخر و خیلاء کی وجہ سے زمین پر نہیں پڑتے۔وہ بھی زیادہ محبت و ہمدردی کے قابل ہیں۔کیونکہ جس کو وہ راحت خیال کر رہے ہیں۔وہ ان کے لئے وبال جان ہے۔میں کہتا ہوں۔اگر دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفیں تمہارے دل میں لوگوں کے لئے رقت پیدا کر دیتی ہیں۔تو وہ عظیم الشان تکلیف - جس میں وہ مبتلاء ہیں۔کیوں تمہارے دل میں رقت پیدا نہیں کرتی یہ بڑا سوچنے کا مقام ہے۔یاد رکھو کہ خدا کے مامورین نہیں آتے۔جب تک کہ دنیا ہدایت سے محروم نہیں ہو جاتی۔وہ اسی وقت بھیجے جاتے ہیں۔جبکہ دنیا ہدایت کی محتاج ہوتی ہے اگر دنیا میں ہدایت اور راستی موجود ہو تو کوئی سلسلہ قائم کرنے والے انبیاء نہیں آیا کرتے۔وہ ایسے ہی وقت میں آتے ہیں۔جب مرض پر مرض بڑھ جاتی ہے تاریکی پر تاریکی چھا جاتی ہے۔جب دنیا کے فرزند کو ڑہی کی طرح ہو جاتے ہیں۔اس وقت خدا اپنے ماموروں کو بھیجتا ہے کہ جاؤ جا کر ان کے کیڑے نکالو اور ان کوڑھیوں کو اچھا کرو۔ماموروں کا یہ فرض ان کے بعد ان کی جماعت کے ذمہ عائد ہوتا اور اس کی ادائیگی ان پر واجب ہو جاتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ ہمارے دوست اس امر کی طرف توجہ نہیں کرتے۔میں نے گذشتہ سالانہ جلسہ پر اور پھر مجلس مشاورت میں اعلان کیا تھا کہ چند ضلعے منتخب کر لئے جاویں جہاں کے تمام احمدیوں سے سال میں پندرہ دن وقف کرا کے ان ضلعوں میں تبلیغ کرائی جاوے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بیرونی لوگ تو الگ رہے۔ہمارے دفاتر نے بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں کی۔اور تاحال کوئی کارروائی متعلقہ دفتر سے شروع نہیں کی گئی۔اگر ایک امر کا فیصلہ کر کے پھر خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔تو کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی ہم جنگ کی حالت میں ہیں۔اس لئے