خطبات محمود (جلد 8) — Page 405
405 جسم انسانی میں بعض بیماریوں کی وجہ سے کیڑے پڑ جاتے ہیں۔اسی طرح روحانی اعضاء میں بھی کیڑے پڑ جاتے ہیں۔کیڑے پڑنے سے کیا مطلب ہے یہی کہ اس حصہ جسم میں غذا حاصل کرنے کی طاقت نہیں رہتی۔اور چونکہ قانون قدرت یہ ہے کہ جو چیز بڑھتی نہیں ہے وہ گھٹتی ہے۔اس لئے وہ حصہ گل کر علیحدہ ہو جاتا ہے۔جب انسان کے جسم کا کوئی حصہ غذا حاصل نہیں کرتا۔اور طاقت و قوت کی لہر جو جسم میں جاری ہوتی ہے۔وہ اسے نہیں پہنچتی۔تو کیڑے پڑ جاتے ہیں اور جیسے انسانی جسم کا کوئی حصہ جب انسانی حفاظت سے باہر رہتا ہے۔تو کیڑے اس کو کھاتے ہیں۔اسی طرح روحانی حالت ہے کہ جب کسی روح کا تعلق مبدأ مرکز سے نہیں رہتا تو کیڑے اسے گندہ کر دیتے ہیں اور اپنی غذا بنا لیتے ہیں۔اگر روح ظاہر میں نظر آتی اور اس کی بیماریاں بھی مجسم صورت میں نظر آتی ، نہ کہ عقل سے معلوم ہو تیں تو جیسے تم کوڑھیوں کے پاس سے گذرتے ہوئے ان سے ہمدرد را کر۔اور گھن محسوس کرتے ہو۔اسی طرح روحانی بیماروں کی روحیں اور بیماریاں نظر آنے پر تم کو کو ڈھیر ، سے بھی زیادہ ان سے گھن آتی اور ہمدردی پیدا ہوتی۔اگر تمہارے روحانی ناک ہوتے۔تو جس طرح ظاہری ناک کی وجہ سے بڑی بڑی گھنونی اور بدبو دار چیزوں سے بدبو محسوس کر کے تمہیں کراہت ہوتی ہے اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے اسی طرح تمہاری روحانی ناک تم کو بتا دیتی کہ فلاں شخص میں بدبو ہے پس تم کو اس سے ہمدردی سے جو جسمانی مریضوں سے ہوتی ہے کئی درجہ زیادہ ان لوگوں سے ہمدردی ہونی چاہیئے جو صداقت سے محروم ہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ بہت لوگ ہیں جو ایک مالدار صاحب ثروت کو جسمانی تکلیف میں دیکھ کر اس سے ہمدردی کرتے ہیں اور یہ نہیں کہتے کہ اے خدا اس کا مال ہم کو دے دے کیونکہ اس کی حالت دیکھ کر مالی حالت کو بھول جاتے ہیں۔اور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ مال کس کام ہے اگر جان نہ بچی مگر بہت ہیں جو روحانی بیماروں کے مال کو دیکھ کر تعجب کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ان کافروں کے پاس کتنا مال ہے۔مثلاً عیسائی ہیں۔ان کے مال کو دیکھ کر لوگ تعجب کرتے ہیں۔انہیں اپنے سے بہتر اور آرام میں خیال کرتے ہیں۔حالانکہ وہ روحانی لحاظ سے قابل رحم بیماریوں میں مبتلا اور لائق ہمدردی ہیں لیکن چونکہ ان کی بیماری نظر نہیں آتی اور اصل حقیقت لوگوں پر منکشف نہیں ہوتی۔اس لئے اس کی پروا نہیں کی جاتی۔اور ایسے لوگوں کی حالت پر ترس نہیں کھایا جاتا۔حالانکہ اگر ایک بادشاہ بھی جو ساری دنیا کا حاکم ہو۔زمانہ کے امام کو نہیں پہچانتا تو اس سے زیادہ بد قسمت کون ہو سکتا ہے۔اس کا مال کس کام آئے گا اگر اس نے دنیا میں تھیں یا چالیس سالہ زندگی آرام و