خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 407

407 کسی امر کے متعلق فیصلہ کرنے کے بعد اس پر جلدی عمل کرنا چاہئے۔دیکھو اگر انگریز گذشتہ جنگ کے دوران میں ایسا کرتے کہ ایک امر کے متعلق فیصلہ کرتے اور پھر اس کو عمل میں نہ لاتے تو آج لنڈن میں ان کا پھریرا نہ لہرا رہا ہوتا۔پھر کاموں کا فیصلہ کر کے خاموشی اختیار کر لینا ذلت کا بھی موجب ہوتا ہے۔جب پندرہ روزہ لازمی تبلیغ کے لئے تحریک کی گئی اور چند اضلاع کے قائم مقاموں نے اسے جاری کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا تو اس وقت قادیان کے دوستوں نے بھی کہا تھا کہ ان ضلعوں میں گورداسپور کا بھی ضلع رکھا جائے میں نے ان کے کہنے کی وجہ سے گورداسپور کو بھی شامل کیا تھا۔مگر مجلس شوری کے بعد کوئی باقاعدہ کام شروع نہیں کیا گیا۔باقاعدہ کیا ابتدائی کارروائی بھی ابھی تک نہیں ہوئی۔قاعدہ ہے کہ تمام اعضاء مرکز سے قوت پاتے ہیں۔دل کی حرکت اگر رک جائے تو کسی عضو میں طاقت یا خون نہیں پہنچے گا۔اور تمام اعضاء مردہ ہو جائیں گے اور جب تک دل میں طاقت ہوگی جوارح بھی طاقتور ہوں گے قادیان مرکز ہے باقی جماعتوں کا۔باہر کی جماعتیں قادیان کی جماعت سے نمونہ پکڑتی ہیں۔لیکن قادیان کی جماعت نے اس تحریک میں کوئی ایسا ممتاز حصہ نہیں لیا کہ باہر کی جماعتیں اس کی تقلید کرتیں۔ملکانہ تحریک میں قادیان سے جتنے آدمی گئے ہیں۔وہ دوسری جماعتوں کے لحاظ سے چار پانچ گنا زیادہ ہیں۔مگر پھر بھی یہ زیادتی کوئی ایسی نہیں۔جو اعلیٰ نمونہ ہو جب تک قادیان کے ہر فرد کو بیرونی لوگ دینی جوش سے بھرا ہوا نہ دیکھیں۔تب تک وہ کامل طور پر تبلیغ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے۔اس وجہ سے میں قادیان کے لوگوں کو خاص طور پر کہتا ہوں کہ وہ تبلیغ کے لئے اپنے اوقات خرچ کریں۔ساری دنیا تو علیحدہ رہی۔صرف اپنے ضلع کو ہی سنبھالیں کیا یہ افسوس کی بات نہیں کہ ۳۴ سال سے سلسلہ احمدیہ کام کر رہا ہے۔مگر ایک ضلع کو ہم احمدی نہیں بنا سکے۔- اگر ۳۴ سال میں ہم سے پورے ایک ضلع گورداسپور کو احمدی نہ بنایا گیا تو وہ دنیا جس میں ہزاروں لاکھوں گورداسپور جیسے اضلاع ہیں۔اس کے لئے کتنا عرصہ چاہیئے۔اگر اتنا عرصہ ہی رکھا جاوے تو ۳۴ لاکھ برس میں تمام دنیا میں تبلیغ کی جاسکے گی۔مگر میں کہتا ہوں اتنی مدت کس امت کو ملی ہے۔حضرت آدم کی امت کو ایک ہزار سال کی مدت ملی جس میں ان کی قوم کی ترقی بھی ہوئی اور تنزیل بھی ہوا جس پر حضرت نوح کی ضرورت پڑی۔پھر حضرت نوح کی امت کو بھی ایک ہزار سال ملا