خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 404

404 65 (فرموده ۱۶ مئی ۱۹۲۴ء) روحانی بیماروں کو چنگا کرنے کی ضرورت مشهد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: میں نے پچھلے جمعہ اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ تبلیغ کی طرف ہماری جماعت خصوصیت سے توجہ کرے کیونکہ اسلام نے انسان کی پیدائش کی جو اغراض رکھی ہیں۔ان میں سے ایک غرض تبلیغ بھی ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے اور تعجب آتا ہے۔جب کہ میں بہت سے لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ کسی غریب یا مسکین کو گزرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اس پر انہیں رحم آتا ہے کسی زخمی کو دیکھتے ہیں تو اس پر رحم کھاتے ہیں۔ایسا شخص اگر دکھائی دے جس کے جسم میں کیڑے پڑے ہوں۔تو اس کی حالت پر ان کی طبیعت رحم کھائے گی۔کوئی لولا لنگڑا اور اپانچ دیکھ لیں۔تو انہیں رحم آئے گا۔غرض لوگوں کی جسمانی و مالی تکالیف کو دیکھ کر آپس میں ایک دوسرے پر رحم کھاتے ہیں اور ان کے قلوب میں ایک جوش ہمدردی کا پیدا ہوتا ہے۔لیکن روحانی امر میں ایک دوسرے کے متعلق رحم نہیں پیدا ہوتا۔انسان دو ہی چیزوں سے بنا ہے۔ایک جسم سے اور دوسرے روح سے جس طرح جسم کے لئے مال کی کمی فقر و فاقہ کی نوبت پیدا کر دیتی ہے۔جس طرح جسم کے لئے لباس ضروری ہے اور اگر لباس نہ ہو تو انسان ننگا ہو جاتا ہے۔جس طرح جسم کے ساتھ بیماریاں لگی ہوئی ہیں۔جن سے اس کی حالت دردناک ہو جاتی ہے۔اور دیکھنے والے کو اس کے لئے ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔جس طرح جسم کے بعض اعضا ضائع ہو جاتے ہیں۔اسی طرح انسان کی روح پر ساری کیفیات آتی ہیں۔جس طرح مال جسم انسانی کو نشوونما دینے اور تکالیف سے بچانے کا ذریعہ ہے اسی طرح علم روحانی بھی روح کی نشو نما کا ذریعہ ہے جس طرح انسان کا جسم ضائع ہو جاتا ہے۔بعض بیماریوں کی وجہ سے آنکھ کان ناک ضائع ہو جاتے ہیں اسی طرح لوگوں کے یہی حصے روحانی طور پر ضائع ہو جاتے ہیں۔جس طرح