خطبات محمود (جلد 8) — Page 268
268 اگر یہ روح جماعت میں جاری رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تفرقہ بڑھے گا اور تمام جماعت یوں معلوم ہوگی جیسے فرانس کے میدان میں انگریز اور جرمن لڑ رہے تھے یا جیسے ایک پنجرے میں دو شیر بند کر دئے گئے ہیں۔لیکن یاد رکھو جماعت دلوں کے اتحاد سے بنا کرتی ہے اگر کسی جماعت کے دل ایک نہیں تو وہ جماعت نہیں کہلا سکتی۔جیسے حضرت صاحب نے پیغام صلح میں مسلمانوں کی نسبت فرمایا ہے کہ ان کی کوئی جماعت نہیں ہے کیونکہ ان کے دل پراگندہ ہیں۔پس ہم اگر اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کہیں لیکن ہمارے دل ایک نہ ہوں تو یہ جھوٹ ہو گا۔میں نے جو باتیں اب بیان کی ہیں ممکن ہے کہ اور بھی کچھ آدمی اس قسم کے خیالات کے ہوں اور گو یہ خیالات ابھی مخفی ہیں اور دو چار آدمی اس میں مبتلا ہیں۔لیکن اس خیال سے کہ یہ خیالات دوسرے لوگوں میں نہ پھیلیں اور جماعت کے اور افراد ایسے خیالات میں مبتلا نہ ہوں اور چونکہ یہ باتیں بہت اہم اور خطرناک نتائج پیدا کرنے والی ہیں اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ ان پر کچھ بیان کروں۔یہ اس قدر اہم معالمہ تھا کہ اگر وہ نوجوان بچے دل سے توبہ نہ کرتا تو میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کو جماعت سے الگ کر دوں کیونکہ خلیفہ کا یہی کام ہے کہ وہ تمام جماعت کو ایک ہاتھ پر اور ایک کلمہ پر جمع رکھے۔میں سمجھتا ہوں میں اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے سے قاصر رہتا یا قاصر رہوں گا اگر اس قسم کے واقعات اور حالات سے چشم پوشی کروں۔کیونکہ وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہو سکتا جو دیکھتا ہے کہ اس کے سامنے جماعت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کئی جماعتیں بن رہی ہے اور وہ خاموش رہے۔خلافت کی غرض ہی یہی ہے کہ وہ سب کو ایک جگہ پر اور ایک کلمہ پر جمع رکھے۔مجھے شام کو ان باتوں کے متعلق اطلاع ہوئی اسی وقت میں نے دوستوں کو بلا کر مشورہ کیا۔اور چوہدری صاحب کو بلا کر کہا کہ صبح سے پہلے پہلے مجھے تحقیقات کر کے اصل حالات بتائیں۔آج میں نے اس خیال سے یہ خطبہ پڑھا ہے کہ باقی لوگ ان خیالات میں مبتلا نہ ہوں اور اصل حالات کو بیان کرتا ہوں۔یہ جو اس نے بیان کیا کہ عربی خواں انگریزی خوانوں سے عداوت رکھتے اور ان کو حقیر سمجھتے ہیں اس کا جواب میں حدیث هل شفقت قلبہ اس کو پیش کر کے دیتا ہوں۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ باوجود اس کے کہ صحابی ظاہر حالات میں راستی پر معلوم ہوتا ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی کو غلطی پر ٹھہراتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تم نے کیوں نہ اس پر سے تلوار اٹھالی اور کیوں نہ سمجھا کہ وہ تیرا بھائی ہے جب کہ اس نے کہا تھا کہ میں مسلمان ہو تا ہوں۔کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا تھا۔نبی کریم نے حسن ظنی کی ایسی تاکید کی ہے کہ باوجود اس کے کہ واقعات خلاف ہوں پھر بھی حسن ظنی سے کام لینا چاہئیے۔مولویوں اور انگریزی خوانوں کی جو عداوت ہے وہ دل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور حقارت کا تعلق بھی دل سے ہے۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ عربی خواں