خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 267

267 مولویوں کا نام مشہور ہو۔پھر اس نے بیان کیا کہ اس میں خلیفہ کا بھی کچھ دخل ہے۔کیونکہ تمام مشوروں میں مولویوں کو ہی بلایا جاتا ہے۔جب خلیفہ مولویوں کو مشوروں میں بلاتا ہے تو معلوم ہوا کہ ان کو لائق خیال کیا جاتا ہے۔پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ مدرسہ احمدیہ کے استادوں کو تو مشوروں میں بلایا جاتا ہے لیکن مدرسہ انگریزی کے استادوں کو نہیں بلایا جاتا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ کام انگریزی خواں کر رہے ہیں۔بیرونی ممالک میں جو کام ہو رہا ہے وہ انگریزی خوانوں کے ہاتھوں سے ہو رہا ہے۔تبلیغ کے لئے اصل میں انگریزی زبان کی ہی ضرورت ہے عربی صرف معمولی جاننے کی ضرورت ہے۔جب اسے کہا گیا کہ بعض اوقات ایسے مسائل بھی پیش آتے ہیں جن میں عربی کی ضرورت پڑتی ہے۔وہ پیچیدہ مسائل ہوتے ہیں جو عربی زبان کی واقفیت سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔تو اس نے کہا انہیں عربی کی ضرورت نہیں۔ایسے مسائل انسان اپنی عقل سے بھی معلوم کر سکتا ہے۔پھر سننے والے نے اسے کہا کہ اگر خلیفہ بھی مولویوں کو ہی مشوروں میں بلاتا ہے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی ہی لائق ہیں۔اس نے جواب میں کہا کہ اصل وجہ یہ ہے کہ جب خلافت کا جھگڑا ہو اتو انگریزی خوانوں نے ہی یہ جھگڑا کھڑا کیا تھا۔اور مولوی خلافت کی تائید میں تھے۔اس لئے خلیفہ ان کی رعائت کرتا ہے۔دوران تحقیقات میں جب اس لڑکے سے پوچھا گیا کہ تم نے واقعی یہ باتیں کہی ہیں تو اس نے کہا کہ مجھے تپ چڑھا ہوا تھا۔اور میں نے آپ کے جوش میں یہ باتیں کہی تھیں۔لیکن جب اسے کہا گیا کہ اب تمہارا کیا خیال ہے تو اس نے کہا اب بھی میرا یہی خیال ہے۔ہاں اس نے یہ بھی کہا کہ مولوی جو وعظ کرتے ہیں جو تقریر کرتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں انگریزی خواں زیادہ عمدہ تقریر کر سکتے ہیں۔ایک طرف شیخ عبد الرحمان صاحب کو حوالجات نکالنے پر بٹھایا جائے اور دوسرے طرف ایک انگریزی خواں لڑکے کو تو انگریزی خواں لڑکا زیادہ کام کر سکے گا۔اور اسی طرح شیخ عبدالرحمان صاحب قرآن کے وہ معارف بیان نہیں کر سکتے جو فلاں انگریزی خواں بیان کر سکتا ہے۔جس سے معلوم ہوا کہ مولویوں سے زیادہ خدمت اسلام کرنے کی قابلیت انگریزی خواں رکھتے ہیں بلکہ در حقیقت انگریزی خواں ہی خدمت کرتے ہیں۔ان باتوں کے اندر بہت بڑی خطرناک روح معلوم ہوتی ہے جو اگر جاری رہے تو بہت بڑا فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خیالات کسی ایک آدھ آدمی کے ہیں اس لئے کوئی فکر کی۔بات نہیں۔کوئی شخص تندرست نہیں رہ سکتا جب تک اس کے تمام اعضاء تندرست نہ ہوں اور اس کا تمام جسم صحیح نہ ہو۔ایک عضو بھی اگر بیمار ہو جائے تو سارے اعضاء پر اس کا اثر پڑتا ہے۔اسی طرح وہ جماعت بھی فتنوں سے محفوظ نہیں کہلا سکتی جس کے بعض افراد میں یہ روح موجود ہو۔