خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 229

229 جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے حج بھی کیا۔روزے بھی رکھے۔نماز بھی پڑھتے تھے۔اور خدا تک پہنچنے کا صحیح راستہ اسلامی طریق عبادت ہی کو سمجھتے تھے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے تھے۔اور اس پر عمل کرنے کو کامیابی کا ذریعہ یقین کرتے تھے مگر کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جو لوگ سکھ مذہب کی طرف دنیا کو دعوت دیتے ہیں وہ خود اپنے بانی کے اعمال سے اتنے دور اور بیگانہ ہیں۔پس اس وقت صرف ایک ہی جماعت ہے جو محض دین اور صرف دین کے لئے سرگرم عمل ہے۔باقی جس قدر جماعتیں ہیں وہ سب کی سب سیاست کے لئے ساعی اور کوشاں ہیں۔اور وہ جماعت مسیح موعود کی جماعت ہے۔اس نکتہ کو ملحوظ رکھ کر غور کیا جائے تو سوائے ہماری جماعت کے مذہبی جماعت اور مذہب کے لئے کام کرنے والی جماعت اور کوئی نظر نہیں آتی۔اگر مقابلہ میں لاکر باقی مسلمانوں کو بھی دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ عمل کے لحاظ سے وہ بھی پیچھے ہیں۔ان کا شور اور جوش و خروش مذہب کے لئے نہ تھا۔خلافت کے لے لیکچر ہوتے تھے مگر عمل نہیں ہوتا تھا۔بیسیوں خلافت کے عہدہ دار تھے جو مذہب مذہب پکارتے تھے مگر قرآن کریم پڑھنے تک کی ان کو فرصت نہیں ہوتی تھی۔ہندوستان کے سوشل لیڈر سرسید احمد خان صاحب کے متعلق آتا ہے کہ ان سے پوچھا گیا آپ نماز کیوں نہیں پڑھتے تو جواب ملا کہ قومی کاموں سے مجھے فرصت نہیں ہے۔پس مذہبی دنیا میں اگر مذہب کا مرکز اور مذہب کے لئے جان توڑ کوشش کرنے والی اور مذہب کے لئے تکالیف برداشت کرنے والی کوئی جماعت ہے تو وہ صرف ہماری ہی جماعت ہے اگر مذہبی دنیا میں۔کوئی تغیر ہو سکتا ہے اور صلح عظیم کسی جماعت کے ذریعہ ظہور میں آسکتی ہے تو وہ ہماری ہی جماعت ہے کیونکہ باقی جس قدر جماعتیں ہیں وہ صلح کے سرچشمہ سے جو خدا تعالیٰ ہے دور ہیں۔وہ فرزند کیسے جمع ہو سکتے ہیں جو باپ سے تعلق نہ رکھتے ہوں۔ماں باپ کا ہی تعلق ہے جو بیٹوں کو جمع کر سکتا ہے۔دیکھو جب حضرت موسی "بارون" سے خفا ہوئے اور ان کی داڑھی پر ہاتھ ڈالا تو ہارون نے کیا کہا۔یہی کہ اے میری ماں کے بیٹے میری داڑھی نہ پکڑ۔اگر جڑ کو نہ پکڑا جائے تو شاخ کیسے ہاتھ آئے۔پس جنہوں نے روحانی باپ خدا کو چھوڑ دیا۔وہ کیسے صلح دنیا میں پھیلا سکتے ہیں۔دنیا میں محبت خدا ہی کے رشتہ سے ہو سکتی ہے۔جب خدا کو درمیان سے ہٹا لیا جائے تو محبت پیدا کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہ جاتا۔اسی تعلق کو پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کو مبعوث کیا اور اس کو صلح کے شہزادے کا خطاب دیا۔مسیح موعود میں یہ بات بیج کے طور پر تھی جو اب تم میں پھیلے گی اور تمہارے ہی ذریعہ صلح پھیل سکتی تھی۔تمہیں اس کے مطابق اپنی زندگی بنانا چاہیے۔اگر تم ابھی سے اس کے لئے تیاری نہ کرو گے۔تو جب کام کرنے کی ضرورت پیش آئے گی تم نا قابل ثابت ہوگے۔اور کچھ