خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 228

228 اس خیال کو صحیح نہ تسلیم کرتا۔لیکن میں جانتا ہوں ان کا یہ خیال ہرگز نہیں ہے اگر ان کا خیال یہ ہوتا تو سارے ہندوستان کی پڑھی لکھی قوموں کو چھوڑ کر جاہل اور ان پڑھ لوگوں کے پیچھے کیوں دوڑے پھرتے۔پھر ہندو قوم کی عملی حالت سخت ابتر ہے۔وہ ہندو لیکچرار جو سٹیج پر کھڑے ہو کر ویدک دھرم کی تعریف اور ستائش میں زور دار لیکچر دیتے ہیں اور ایم۔اے اور بی۔اے ہیں تجارت اور ملازمت اور دیگر کاروبار میں تو سرگرم اور محو ہیں مگردید سے سراسر غافل ہیں۔ان کو نہیں معلوم ویدوں میں کیا ہے اور عملی زندگی کے متعلق دید کیا تعلیم دیتے ہیں۔دنیا میں فائدہ پہنچانے والے علوم میں وہ اپنی عمریں صرف کرتے ہیں۔ان کے لئے بڑی بڑی محنتیں کرتے ہیں مگروید کی شکل تک سے واقف نہیں ہوتے۔وید کا اگر ذکر ہوتا ہے تو سٹیج پر۔اور باقی تمام زندگی کے شعبوں میں ویدوں کی تعلیمات کا خیال تک نہیں کیا جاتا۔اگر وہ فی الواقع ویدوں کو روحانیت کا سرچشمہ سمجھتے ، ساری خوبیوں اور صداقتوں کا حال یقین کرتے تو کیوں اس کے پڑھنے پڑھانے کی کوشش نہ کرتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے۔اس حال میں ان کو کوئی نیک نیت کس طرح خیال کر سکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کی جنگ ویڈوں کے لئے نہیں۔وید کیا ہیں قومی لڑائی شروع کرئے کا آلہ ہیں جن کا نام لیکر ہندو قوم کے ناواقفوں اور بے خبروں میں ایک جوش اور ہیجان پیدا کیا جاتا ہے۔وید قومی لڑائی برپا کرنے کی رسی ہیں جن سے ایک قوم باندھی جاتی ہے اور لڑائی شروع کی جاتی ہے۔اس سے دید مقصود نہیں بلکہ ہندو قوم کو ایک سیاسی نقطہ پر جمع کرنا مقصود ہے۔اسی طرح اگر عیسائی انجیل کو سمجھتے کہ وہ حق و حکمت کا سرچشمہ ہے اور دنیا کے لئے باعث نجات و فلاح ہے اور اس لئے دنیا کو انجیل کی طرف بلاتے تو میں ان کے اس جذبہ کو قدر کی نظر سے دیکھتا اور ان کو تحسین کرتا۔گو میں جانتا کہ یہ ان کی کوشش غلط ضرور ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ عیسائیوں میں دہریہ بھی شامل ہیں جو انجیل پر ہنسی اڑاتے اور تمسخر کرتے ہیں اور جو انجیل کو ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ نہ انجیل کی تعلیم پر عمل کرتے نہ عمل کرنا چاہتے اور نہ عمل کر سکتے ہیں۔اگر ان میں جوش ہے تو اس لئے کہ یہ جھنڈا عیسائیت کا ہے۔وہ انجیل کو عمل میں ناقابل عمل سمجھتے ہیں لیکن ان کی خواہش یہ ہے کہ وہ ایک جھنڈے کے نیچے رہیں اور لوگ چونکہ کسی اور طرح جمع نہیں ہو سکتے اس لئے وہ انجیل کا نام لیتے ہیں۔اسی طرح دوسری قوموں کے مبلغ اگر اس اصول کے ماتحت کام کریں کہ خدا کی محبت دنیا میں پھیل جائے تو قابل قدر بات ہے۔مگر غور کر کے دیکھو تو یہ جذبہ ان میں مفقود ہے۔سکھ مبلغ بھی دنیا میں تبلیغ کے لئے نکلے ہیں لیکن جب ہم گرونانک کے اعمال پر غور کرتے ہیں اور پھر سکھوں کے طریق عمل کو دیکھتے ہیں تو دونوں میں فرق عظیم نظر آتا ہے۔گرونانک صاحب کے اعمال پر غور کیا