خطبات محمود (جلد 8) — Page 206
206 طرف جاؤ گے۔تم پھر نہ دنیا کے رہے نہ دین کے۔نماز جو ہے وہ پہلا قدم ہے عبودیت کا۔جو شخص کبھی کبھی نماز چھوڑ دیتا ہے وہ یہودیوں اور ضالین میں شمار ہو گا۔پس جن سے خطا ہوئی ہے وہ سنبھل جائیں اور اپنے ایمان کی فکر کریں۔جو شخص نماز چھوڑتا ہے میں اس کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کو کبھی ایمان کی موت نصیب نہ ہو گی۔موت سے پہلے کوئی ضرور ایسا حادثہ اسے پیش آجائے گا کہ جس کی وجہ سے وہ ایمان سے محروم ہو گا اور اس طرح بے ایمان ہو کر مرے گا۔کیا ساری عمر تم قربانیاں کر کے پھر مرتے وقت بے ایمان ہو کر دنیا سے چلے جاؤ گے۔پس نماز کو چھوڑنا کوئی معمولی بات نہیں۔عام طور پر لوگ جو نماز پڑھتے ہیں اور کبھی کبھی چھوڑ دیتے ہیں وہ رسم کے طور پر جنبہ داری کے طور پر دکھلاوے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔میں یہاں کی جماعت کو اور پھر زمینداروں کو خصوصیت سے نصیحت کرتا ہوں وہ نمازوں میں ستی کو چھوڑیں۔خدا کے لئے نمازیں پڑھو۔پھر دیکھو خدا کے کیا فضل تم پر ہوتے ہیں۔میں تو کہتا ہوں خواہ کتنا ہی نقصان ہو۔نماز کو کبھی نہ چھوڑیں۔بعض کہتے ہیں کہ نماز بھول جاتی ہے۔میرے نزدیک بھول کر نماز کا چھوڑنا بھی درحقیقت عمدا " نماز کا چھوڑنا ہے۔کیا وہ ماں جس کا بچہ ایک دفعہ اس کے ہاتھ سے نکل جانے کی وجہ سے سٹیشن پر گاڑی کے نیچے آجاتا ہے کیا پھر کبھی وہ اپنے بچہ کو اپنی انگلی سے جدا رکھے گی۔پھر کیوں کر ممکن ہے کہ ایک شخص کو نماز بھول جاتی ہے۔یا نماز پڑھنے سے پہلے وہ سو جاتا ہے۔اگر تم دیکھتے ہو کہ عشاء سے پہلے چار پائی پر لیٹنے سے نیند آجاتی ہے تو تم کیوں اپنی جگہ پر لیٹتے ہو جہاں تم پر غفلت طاری ہوتی ہے۔اگر تمہاری آنکھوں کے سامنے نماز چھوڑنے کی سزا کا بھیانک نظارہ آجائے تو پھر تم کیسے نماز سے پہلے سو سکتے ہو۔پس جو شخص بار بار بھول جاتا ہے وہ بھی جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والے کے مطابق ہے اور بار بار نماز بھول جانا بھی خطرناک ہے۔اس لئے اس سے بھی بچو اور نماز کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو۔کم از کم ہمارے اور دوسروں کے درمیان یہ امتیاز تو ہو کہ ہم میں سے ایک بھی بے نماز نہ ہو۔کوئی تارک نماز نہ ہو۔باقی میرا تو یہ بھی عقیدہ ہے کہ جو باجماعت نماز نہیں پڑھتا وہ بھی تارک نماز ہے۔اللہ تعالی ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم سچا نمونہ اس کی اطاعت کا ہوں اور کم سے کم یہ کہ ہم نماز با جماعت کے پابند ہوں۔الفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۲۳ء)