خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 207

207 35 جماعت میں احتساب اور اصلاح کی ضرورت فرموده مورخه ۲۸ ستمبر ۱۹۲۳ء)۔تشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں نے بارہار اس امر کو بیان کیا ہے کہ کسی قوم کی صحیح تربیت کس طرح ہو سکتی ہے مختلف اوقات میں اور مختلف پیراؤں میں ایک ہی بات بیان کرنے سے فائدہ ہوتا ہے اور جو لوگ ایک ہی دفعہ بات کہہ کر چپ ہو جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب ہمیں دوبارہ کہنے کی ضرورت نہیں وہ فطرت انسانی سے واقف نہیں۔فطرت انسان کا مطالعہ کرنے سے جو امر معلوم ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ انسان کو بار بار کہنے سے فائدہ ہوتا ہے اور مختلف آدمیوں کی مختلف طبائع ہوتی ہیں۔ایک آدمی دس دفعہ کہنے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور دوسرا آدمی میں دفعہ کہنے سے۔پھر پیرایوں میں بھی بہت فرق ہوتا ہے۔ایک پیرایہ سے ایک پر اثر ہوتا ہے اور دوسرے پر اس کا اثر نہیں ہوتا اور اس پر کسی اور پیرایہ سے اثر ہوتا ہے تو گو میں نے بارہا مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اب مجھے پھر بیان نہیں کرنا چاہئیے۔یاد رکھو کہ جب تک کسی قوم کی تربیت درست نہیں ہوتی وہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔قوم وہی زندہ کہلا سکتی ہے جو چوکس اور ترقی کناں ہو۔لیکن اگر کوئی قوم بڑی محنت سے کام کرتی ہے مگر اس کا جانشین کوئی نہیں جو اس کے کام کو جاری رکھے تو وہ قوم کبھی زندہ نہیں رہ سکتی۔قوم وہی محفوظ رہ سکتی ہے جو اپنے کام کو جاری رکھے۔یہ اور بات ہے کہ غیر معمولی اسباب سے اس کا کام تباہ ہو جائے۔بہت سی ضرب المثلیس دنیا میں ایسی ہوتی ہیں جو سننے والوں کی طبائع پر اثر کرتی اور ان کے حوصلوں کو بلند کرتی ہیں۔لیکن وہ مثالیں بالکل غلط ہوتی ہیں جن سے عام لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اگر اپنی اصلاح کی تو ہم سکھ میں ہو گئے۔اگر اپنے آپ کو سکھ حاصل ہے تو تمام جہان سکھ میں ہے حالانکہ یہ مثال غلط ہے۔اگر یہ سکھ میں ہو اور سارا جہان دکھ میں ہو تو وہ دکھ بھی اس کی طرف منتقل ہو گا مثلا کسی کے مکان کو آگ لگ جائے تو اس کا ہمسایہ اگر یہ خیال کر کے بیٹھ رہے گا کہ دوسرے کے مکان کو آگ لگی ہوئی ہے، مجھے کیا۔تو یہ اس کی