خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 205

205 نہیں کرتے۔اس لئے وہ مغضوب علیہم ہیں۔پس جو شخص شریعت کے مطابق چلے گا وہی عابد کہلائے گا اور انعمت علیھم میں داخل ہو گا اور شریعت کے موٹے موٹے احکام مثلاً نماز، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ ہیں ان میں سب سے بڑا رکن نماز ہے جو شخص اس بڑے رکن یعنی نماز کا تارک ہے وہ در حقیقت اسلام کا تارک ہے اور جب تک نماز نہیں پڑھتا تب تک وہ جھوٹا اور منافق ہے۔اس کا اور کاموں میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔اس کا بحثیں کرنا اس کا چندے دینا اور دینی کام کرنا خدا کے حضور کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔میں نے تو جہاں تک غور کیا ہے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو شخص نماز پڑھتا ہے خواہ وہ عیبوں میں کہاں تک نکل جائے اس کے لئے پھر بھی بچاؤ اور نجات کی صورت ہے۔لیکن جو شخص نماز نہیں پڑھتا وہ خواہ کس قدر بھی اور نیکیاں بجا لائے اس کے لئے پھر بھی خطرہ ہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کی تباہی کا بہت بڑا موجب نماز کا چھوڑنا ہے۔اول تو امراء نے نماز ہی پڑھنی چھوڑدی اور جو پڑھتے ہیں۔وہ گھروں میں ہی پڑھتے ہیں عام طور پر لوگ چھوٹی چھوٹی لڑائیوں پر نماز چھوڑ بیٹھتے ہیں لیکن ہماری جماعت کے متعلق تو یہ خیال بھی دل میں لانا خطرناک ہے کہ اس میں سے کوئی آدمی تارک نماز ہو۔میرے نزدیک تو جو شخص سال میں ایک بھی نماز چھوڑتا ہے اس کا وہ تارک ہے بلکہ پندرہ سال میں بھی اگر ایک دفعہ نماز چھوڑی تو وہ تارک ہے کیونکہ نماز میں ایک ایسا لطف اور سرور ہے کہ اس کی وجہ سے وہ کبھی کوئی نماز نہیں چھوڑ سکتا۔جب سے وہ ایک دفعہ توبہ کر لیتا ہے پھر اس کے بعد اگر ایک بھی نماز چھوڑتا ہے تو وہ تارک کہلائے گا۔میں نے بہت دفعہ یہاں تقریر کی ہے کہ بہت لوگ ہیں جو نماز با جماعت نہیں پڑھتے لیکن باجماعت نماز کا مسئلہ تو پیچھے ہو گا پہلے تو ضروری ہے کہ نماز کو کسی صورت میں ترک نہ کیا جائے۔میں نے سنا ہے کہ یہاں چند آدمی جو بظاہر اپنا گھر بار چھوڑ کر تھوڑے دنوں سے یہاں آئے ہیں وہ نماز نہیں پڑھتے اگرچہ میرا دل اس بات کو نہیں مانتا کہ ہماری جماعت کا کوئی شخص ایسا ہو جو نماز نہ پڑھتا ہو مگر پھر بھی میرے دل پر اس بات کا اتنا اثر ہے کہ میں نے اس مضمون پر آج خطبہ کہا ہے حالانکہ میرا ارادہ کسی اور مضمون پر بیان کرنے کا تھا۔پس خوب یاد رکھو کہ نماز کے بغیر کوئی اسلام نہیں ہرگز کوئی شخص نماز چھوڑ کر مسلمان نہیں رہ سکتا۔ایک ہی کڑی ہے جو خدا اور بندے کے درمیان ہے اور وہ نماز ہے۔پس کون ہے جو اس کڑی کو توڑنا پسند کرتا ہے۔جو قوم نماز کی پابند رہے گی وہ ہر وقت بچی رہے گی۔دیکھو ٹوٹی ہوئی کڑی کسی طرف بھی نہیں رہتی۔تم خدا کی کڑی اپنے آپ کو سمجھتے ہو۔بتاؤ اگر تم ٹوٹے ہوئے ہو گے تو کس