خطبات محمود (جلد 8) — Page 189
189 ہے کہ سب سے پہلی قوم جس کو مخاطب کرنا ہوتا ہے۔انہیں میں سے ایک شخص کو چھتا۔تا ہے۔دیکھو تم میں جو شخص آیا وہ تمہاری سی عادات تمہارے سے ہی خیالات رکھتا تھا۔اور اس کے بعد جس کے سپرد جماعت کا انتظام کیا گیا وہ بھی تمہاری طرح کا ہی انسان ہے۔پس تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم ہمارے حالات کو نہیں سمجھ سکتے۔ہماری مجبوریوں اور ہماری ضروریات کو نہیں سمجھتے بلکہ جن حالات و مشکلات میں سے تم گزرتے ہو انہیں حالات میں سے میں بھی گزرتا ہوں۔تمہارے لئے جو مشکلات ہو سکتی ہیں۔بعینہ وہ میرے لئے بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ اسی کل کا میں بھی جز ہوں جس کی تم ایک جز ہو۔پس میں اگر تم کو کوئی نصیحت کرتا ہوں تو صرف اسی لحاظ سے نہیں کہ میں امام اور خلیفہ ہوں بلکہ میں اس لحاظ سے بھی نصیحت کرتا ہوں کہ میں تمہاری طرح کا انسان ہونے کی وجہ سے تمہاری مشکلات اور تمہارے حالات کو سمجھتا ہوں۔میں اس شخص کی طرح نصیحت کرتا ہوں جو خود ان مصائب و مشکلات سے گزر رہا ہو۔جن میں سے تم گزر رہے ہو۔پس میری نصیحت محض حاکمانہ نہیں ہے بلکہ اس حیثیت کے علاوہ کہ جو میری خلافت کے لحاظ سے حیثیت ہے میری انسانی حیثیت زیادہ محرک ہوتی ہے کہ میں تمہیں خطرات سے آگاہ کروں۔بہت دفعہ میرے اندرونی احساسات ان کاموں کے کرنے کا حکم دینے سے روک دیتے ہیں جو بلحاظ خلافت کے کرانے چاہئیں اور ان کی بجائے میں ان حالات کے ماتحت تمہیں کچھ کہتا ہوں جو بلحاظ تمہاری طرح ایک انسان ہونے کے کہنا چاہئیے اور ان احکام کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ ابھی مجھے کچھ ٹھہرتا ہے۔پس یہ بات درست نہیں کہ میں بحیثیت ایک خلیفہ ہونے کے ہر ایک کو حکم دیتا ہوں بلکہ ایک انسان اور پھر ہندوستانی ہونے کے لحاظ سے کئی باتیں کہتا ہوں۔پس وہ چیز جو میرے ایسے احکام کا باعث ہوتی ہے وہ زیادہ تر ہندوستانیت اور انسانیت ہوتی ہے۔اس حقیقت کے انکشاف کے بعد میں پھر ان دو خطبوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں جو پچھلے دو جمعوں میں میں نے بیان کئے ہیں۔میں نے ان میں یہ بات بیان کی تھی کہ مومن کو دینی کام کس طرح کرنے چاہئیں اور میں نے یہ شکوہ کیا تھا کہ اکثر مومن اپنے فرائض ادا نہیں کرتے۔یا تو وہ اس بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ ان کو کوئی یاد ولائے یا اس بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی نہ یاد دلائے یہ دونوں قسم کے لوگ خطرناک مقام پر ہیں۔جو لوگ اس مقام پر ہیں کہ وہ اس بات کے انتظار میں رہتے ہیں کہ انہیں کوئی یاد دلائے وہ خطرہ میں ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں کوئی یاد نہ دلائے وہ زیادہ خطرہ میں ہیں۔ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کوئی ماں اس بات کا انتظار نہیں کرتی کہ کوئی اسے یاد دلائے کہ تو اپنے بچہ کو دودھ پلا۔اور کوئی زمیندار اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ کوئی اسے اگر کہے کہ تو اپنی زمین میں ہل چلا کر پیج ڈال۔وہ کسی کے یاد دلانے کی کیوں نہیں انتظار کرتے اس لئے کہ اس ماں کا وہ اپنا بچہ ہوتا