خطبات محمود (جلد 8) — Page 190
190 ہے اور زمیندار کا اپنا کام ہوتا ہے۔اسی طرح ایک مومن جو دیندار ہے دین کا کام اس کا اپنا کام ہے اسے دین کے کام اسی طرح کرنے پڑیں گے جیسے اپنے اور اس کا فرض ہے کہ وہ کام کرتا چلا جائے۔ہاں جس جگہ اسے روک دیا جائے وہاں وہ رک جائے لیکن جب تک اسے کسی خاص جگہ پر کام کرنے سے نہ روکا جائے تب تک اس کا فرض ہے کہ وہ کام کرتا جائے جیسے کوئی کہے کہ میں ہر وقت عبادت کروں گا۔تو یہ درست نہیں کیونکہ بعض وقتوں پر عبادت کرنا منع ہے۔اسی طرح کوئی ہمیشہ روزہ رکھے تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ روزہ رکھنے سے روک دیا۔مگر مومن کی یہی خواہش ہونی چاہیے کہ وہ ہر وقت عبادت کرے اور ہر روز روزہ رکھے۔آگے خدا تعالیٰ خاص وقتوں میں روک دے تو یہ علیحدہ بات ہے اسی طرح ایک مومن کہ جس کو خلیفہ یا امام خدا تعالی کی طرف سے کہے کہ فلاں کام میں تم نے دخل نہیں دینا تو اس سے اسے رک جانا چاہیئے لیکن وہ کام جن سے اسے نہ روکا جائے ان میں اسی طرح اور اسی جوش سے لگا رہے جس طرح اور جس جوش سے وہ اپنے کام کرتا ہے۔اس مقام سے جو شخص نیچے ہے وہ شخص خطرے سے خالی نہیں اور در حقیقت وہ دیندار نہیں۔حقیقی مومن وہی ہے جو دین کے کام اپنے کام سمجھ کر کرتا ہے ہاں ان کاموں کے لئے مشورہ لے سکتا ہے۔جب کام کے خراب ہونے کا خطرہ ہو تو ایسے وقت میں وہ انتظام کی درستی کے لئے دوسروں سے مشورہ تو لے سکتا ہے تاکہ زیادہ عمدگی سے کام کر سکے۔لیکن یہ نہیں کہ وہ بیٹھا رہے اور دوسروں کے مشورہ دینے اور یاد دلانے کی انتظار کرتا رہے۔ایسا شخص جو دوسروں کے یاد دلانے کا محتاج ہو اس سے ہرگز یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ ذمہ واری کو اٹھا سکے اور کوئی کام کر سکے گا۔جب وہ لوگ بھی جو لمبی زندگی کے مستحق تھے وہ بھی زندہ نہ رہے تو اور کون ہے جو یہ خیال کر سکے کہ اسے لمبی عمر مل جائے گی اور اگر ابھی تک اس نے کچھ نہیں کیا تو پھر کر لے گا۔سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک وجود تھا جو ہمیشہ زندہ رہنے کا مستحق تھا اور یہ کوئی آج مثال کے طور پر بات نہیں بیان کی جا رہی بلکہ صحابہ کا بھی یہی خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وجود ہمیشہ رکھنے کے قابل ہے مگر آپ بھی فوت ہو گئے۔پھر ہمارے زمانہ میں اگر کوئی شخص اس لائق تھا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے تو وہ حضرت مسیح موعود کا وجود تھا۔آپ کی بظاہر ابھی ضرورت تھی کہ ظاہر میں بھی دجال کو قتل کریں اور صلیبی فتنہ کو ظاہر میں بھی پاش پاش کریں لیکن وہ بھی دنیا سے چلے گئے اگر لمبی عمر ہی حضرت صاحب کو دی جاتی تب بھی عیسائیت کا فتنہ ظاہر میں بھی پاش پاش ہو جاتا کیونکہ دنیا میں ایسے لوگ ہوئے ہیں جن کی عمریں دو سو سال سے اوپر ہو ئیں۔اور تاریخی انسانوں کی عمریں ایک سو اسی برس تک کی ثابت ہیں۔اس لحاظ سے اگر آپ کو سو سال