خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 188

188 32 بڑی سے بڑی قربانیوں کے لئے تیار ہو جاؤ (فرموده ۷ ستمبر ۱۹۲۳ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اگرچہ میری طبیعت اچھی نہیں۔رات کو بہت تکلیف رہی ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ میری ذمہ داریاں اور جماعت کی ضرورت اس بات کی مقتضی ہیں کہ کچھ نہ کچھ اپنی طرف سے جماعت کے معاملات کے متعلق جو دین اور تقویٰ و سیاست سے تعلق رکھتے ہیں کم سے کم ہفتہ میں ایک دفعہ ضرور یان کروں تاکہ جماعت زیادہ ہوشیار ہو جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی لوگ ایک کان سے بات سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کوئی بات بتانے سے بہت لوگ ہیں جو اگر غافل ہوں تو ہوشیار ہو جاتے ہیں اور اگر ہوشیار ہوں تو اور زیادہ ہوشیار ہو جاتے ہیں۔پس باوجود اس کے کہ بعض لوگوں پر نصیحت کا اثر نہیں ہو تا مگر پھر بھی نصیحت کے نیک نتائج ضرور نکلتے ہیں۔اس وقت میں اختصار کے ساتھ جماعت کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری جو ذمہ داریاں ہیں وہ اس بات کو چاہتی ہیں کہ ہماری قربانیاں بہت زیادہ ہوں اور بہت بڑھی ہوئی ہوں۔جب تک تمام کے تمام افراد اپنے ذاتی خیالات اور ذاتی فوائد کو قربان کر کے ایک غرض و غائت پر جمع نہیں ہونگے۔تب تک وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے اور نہ قائم رہ سکتے ہیں۔میں تمہارے حالات کو خوب جانتا ہوں کیونکہ میں بھی تمہاری طرح کا ہی انسان ہوں۔میرے بھی وہی حالات اور میری بھی وہی ضروریات ہیں جو تمہارے حالات اور تمہاری ضروریات ہیں۔میں کوئی غیر جنس نہیں تمہاری ہی جنس کا ہوں۔اس لئے میں تمہارے حالات کو خوب سمجھتا ہوں۔اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی قانون رکھا ہے کہ انسان کو سمجھنانے کے لئے انسان ہی مقرر کئے جاتے ہیں۔پھر انسانوں میں بھی آگے اختلاف ہوتا ہے۔مشرق کے رہنے والے مغرب والوں کی بات نہیں مانتے۔وہ کہتے ہیں ہماری بات درست ہے اور مغرب والے مشرق والوں کی نہیں مانتے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے یہ قانون رکھا