خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 440

440 کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ ترقی کر سکتا ہے۔جب تک اس سرچشمہ سے اس کا تعلق نہ ہو۔جس سے اس کی حیات قائم اور وابستہ ہوتی ہے۔اور یہ وابستگی دعا کے ذریعہ ہی ہو سکتی ہے۔لیکن دعا قبولیت کے مقام پر نہیں پہنچ سکتی۔جب تک کہ دعا کرنے والا قربانی کے لئے تیار نہ ہو۔پھر روحانی حیات جو دعا اور قربانی کے بعد حاصل ہوتی ہے۔قائم نہیں رہ سکتی جب تک آگے ان فیوض کو انسان جاری نہ کرے۔جو خدا سے اسے حاصل ہوتے ہیں۔وہ شخص روحانیت میں ترقی نہیں کر سکتا۔جو ان علوم اور ان طاقتوں کو خرچ نہیں کرتا۔جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے ملتی ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ قادر ہے اور وہ چاہتا ہے کہ جو کچھ میں دوں۔اسے خرچ کیا جائے تاکہ میں اور دوں۔لیکن جو انسان خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی انعام حاصل ہونے پر اسے دوسروں تک نہیں پہنچاتا۔وہ گویا یہ سمجھتا ہے کہ خدا میں مجھے اور دینے کی قدرت نہیں ہے۔اگر وہ جو مجھے ملا ہے۔دے دوں گا تو میرے پاس کچھ نہیں رہے گا۔ایسے انسان کو اور کیا مل سکتا ہے۔غیر احمدی جو یہ کہا کرتے ہیں کہ خدا نے اسی مسیح کو مسلمانوں کی اصلاح کے لئے آسمان پر زندہ رکھا ہوا ہے۔جو انیس سو سال ہوئے بنی اسرائیل میں آیا تھا۔اور یہ اس کے قادر ہونے کا ثبوت ہے۔اس پر ہمیشہ مجھے تعجب آیا کرتا ہے کہ یہ قادر ہونے کا کیونکر ثبوت ہے۔قادر تو وہ ہوتا ہے۔کہ جب چاہے کوئی چیز مہیا کر لے۔نہ یہ کہ ایک چیز کو اس لئے رکھ چھوڑے کہ دوسرے وقت میں اسی سے کام لوں گا۔دیکھو ایک امیر آدمی جو تازہ کھانا پکوانے کی قدرت رکھتا ہے۔وہ صبح کا کھانا شام کے لئے نہیں رکھ چھوڑتا بلکہ شام کو تازہ پکواتا ہے لیکن ایک غریب آدمی صبح کا بچا ہوا کھانا شام کو کھانے کے لئے سنبھال رکھتا ہے۔پس اگر خدا تعالی قادر ہے اور یقینا ہے۔تو اس کی قدرت کا یہ ثبوت ہے کہ ضرورت کے وقت نیا مسیح بھیج دے۔نہ یہ کہ پہلے مسیح کو رکھ چھوڑے یہ خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔اسی طرح یہ بھی خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی سمجھ لے کہ جو کچھ ملا ہے اس سے زیادہ خدا نہیں دے سکتا۔جو لوگ ناکام و نامراد رہتے ہیں۔ان میں بہت سے تو اس وجہ سے ناکام رہتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے وہ تعلق نہیں پیدا کرتے جو دعاؤں کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔وہ شکایت کرتے ہیں کہ ہمیں روحانیت حاصل نہیں ہوتی لیکن روحانیت حاصل ہونے کا طریق اختیار نہیں کرتے پھر بہت سے لوگ ہیں۔جن پر خدا کے فضل ہوتے ہیں۔ان پر نئے علوم بھی کھلتے ہیں۔لیکن چونکہ وہ آگے کچھ خرچ نہیں کرتے اس لئے وہ بھی اعلیٰ درجہ کی روحانیت حاصل نہیں کر سکتے۔