خطبات محمود (جلد 8) — Page 441
441 ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہر ایک ترقی ہمیشہ خرچ کرنے سے ہوتی ہے۔میں نے ایک دفعہ دعا کی قبولیت کے ایسے طریق بیان کئے۔جو خاص سمجھے جاتے تھے۔اور اگر کسی کو ان میں سے کوئی معلوم تھا تو اسے پوشیدہ رکھتا تھا۔اس پر مجھے کہا گیا کہ آپ نے یہ کیا غضب کر دیا۔راز کی باتیں ظاہر کر دیں۔لیکن مجھے جس قدر طریق معلوم تھے وہ میں نے بیان کر دیئے۔آخری جمعہ جس میں وہ طریق ختم ہوئے پڑھانے کے بعد گھر جا کر میں نے دو نفل پڑھے اور دعا کی۔الہی جو کچھ دعا کے متعلق مجھے علم دیا گیا تھا۔وہ میں نے سارے کا سارا بیان کر دیا۔اب میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں۔کہ کیا قبولیت دعا کے کوئی اور بھی طریق ہیں یوں تو میرا ایمان ہے کہ ہوں گے۔لیکن میں اپنے اطمینان کے لئے معلوم کرنا چاہتا ہوں۔یہ دعا کرنے کے بعد رکوع سے قیام کے وقفہ کے اندر اندر جو ایک آدھ منٹ کا تھا۔مجھے دونئے عظیم الشان گر سکھائے گئے۔یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ مجھے پہلے جو علم دیا گیا۔اسے میں نے خدا کے لئے خرچ کیا اگر میں یہ خیال کرتا کہ جو کچھ میں بیان کروں گا۔وہ لوگوں کو معلوم ہونے سے پھر وہ میرے برابر ہو جائیں گے۔تو وہ دو عظیم الشان طریق مجھے نہ معلوم ہوتے۔پس خدا اس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ کوئی شخص ان فیوض اور ان علوم کو اپنے اندر بند رکھے۔جو اللہ تعالیٰ اس پر کھولے۔کیونکہ اس سے وہ گویا خدا کے خزانے بند اور محدود سمجھتا ہے۔اور پھر کچھ اور ملنے سے محروم رہتا ہے۔لیکن اگر خرچ کرتا جائے تو اور اضافہ ہوتا جاتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آسکتی۔خدا تعالیٰ کے خزانہ کی تو یہ شان ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسے عظیم الشان انسان کو بھی حکم ہوتا ہے کہ یہ دعا کرو۔رب زدنی علماً اے میرے رب میرے علم میں ترقی ہو۔پس جب محمد رسول اللہ بھی علمی ترقی کے محتاج ہیں اور آپ جیسے انسان کو بھی اللہ تعالیٰ علمی ترقی کے حصول کے لئے دعا مانگنے کے واسطے فرماتا ہے تو اور کون ہے جسے ضرورت نہ ہو۔تو کوئی شخص خدا کے فیضان کو نہیں حاصل کر سکتا۔جب تک کہ وہ پہلے علوم کو خرچ نہ کرے اور جب وہ پہلے علوم کو خرچ کرتا ہے۔تو نئے فیضان اسے حاصل ہوتے ہیں۔اور نئے علوم کے دروازے اس پر کھولے جاتے ہیں اور اس طرح ایک طرف سے لینے اور دوسری طرف دینے کا چکر شروع ہو جاتا ہے۔پس احباب کو چاہیئے۔خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں اور اس سے دعائیں کریں۔پھر اس فیض کو جو دعاؤں کے بعد انہیں حاصل ہو۔بنی نوع انسان کے لئے خرچ کریں۔دیکھو اسی کنوئیں کا پانی صاف رہتا ہے۔جس میں سے پانی نکلتا رہے۔اگر تم خدا کے فیوض کو اپنے اندر بند کر