خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 439

ہوں۔439 پس اس آیت میں روحانی ترقیات کا ایک گر بتایا گیا ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے۔انسان کی روحانی ترقیات اور تکمیل کے لئے دورے ضروری ہیں۔پہلے تو یہ کہ انسان خدا سے وہ سامان طلب کرے جن کے ذریعہ وہ روحانی ترقی کر سکتا ہے اور یہ صلوۃ کے ساتھ حاصل ہو سکتی ہیں۔انسان خدا کے ساتھ تعلق قائم ہونے کے لئے دعائیں کرے۔پھر جب اس پر فضل ہونے شروع ہو جائیں تو نسکی کے۔یعنی جو کچھ خدا نے دیا۔اسے خدا کے لئے ہی خرچ کرے۔پھر اتنا ہی کافی نہ سمجھے۔بلکہ محیای۔اپنی زندگی کی ہر ایک حرکت خدا ہی کے لئے کردے۔اور پھر انتہا یہ کہ مماتی اپنی موت بھی خدا ہی کے لئے قرار دے اور خدا کے لئے موت قبول کرنے کے لئے بھی تیار رہے اور خدا کی مخلوق کو خدا تک پہنچانے کے لئے اپنی جان کی بھی پروا نہ کرے۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لعلک باخع نفسک الايکونو امو منین (الشعراء ۴) کہ تجھے لوگوں سے اس قدر ہمدردی اور محبت ہے کہ تو اپنی جان ان کی خاطر بلاک کر دے گا۔ہر ایک مومن کو دوسرے انسانوں کی بہبودی اور ترقی کے لئے ایسا ہی کرنا چاہیئے پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تمام ترقیات کے لئے دو قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔ایک یہ کہ پہلے انسان وہ سامان مہیا کرے جن کے ذریعہ اپنے اندر ترقی کرے۔اور پھر بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے سب کچھ خرچ کرے۔یعنی ایک طرف سے لے اور دوسری طرف دیتا چلا جائے۔اس مرتبہ پر پہنچا ہوا انسان سب کچھ رب العالمین کے لئے کرتا ہے۔یعنی ایسی ہستی کے لئے جس سے تمام دنیا کی چیزیں فیض حاصل کر سکتی ہیں۔اور جو ایسا سرچشمہ ہے۔جس سے ہر ایک چیز سیراب ہوتی ہے۔ایسی ہستی کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا۔کہ میں اس کے لئے کوئی قربانی کیوں کروں کیونکہ کیوں کا سوال اپنی جنس کے متعلق پیدا ہوا کرتا ہے۔اور مقابلہ اپنی جنس سے ہی کیا جاتا ہے قو میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں۔ایک قوم کوشش کرتی ہے کہ دوسری سے بڑھ جائے لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی قوم ہاتھیوں سے طاقت میں بڑھنے کے لئے کوشش کرے تو غیرت کا سوال تبھی پیدا ہوتا ہے۔جب مقابل میں اپنی جنس ہو۔لیکن جہاں جنس کا سوال نہ ہو۔بلکہ اس سے بالا ہستی ہو وہاں مقابلہ کا خیال نہیں پیدا ہوتا۔اس لئے فرمایا کہ ہر شخص کو یہ مد نظر ہونا چاہیئے کہ میری تمام قربانیاں اور عبادتیں اس خدا کے لئے ہیں۔جو سارے جہانوں کا رب ہے۔اور اس کے لئے کامل تذلل اور کامل اطاعت کرنے میں کوئی شرم کی بات نہیں۔بلکہ فخر کی بات ہے۔